کیا عورت 40دن تک ناپاک رہتی ہے بچے کی پیدائش کے بعد عورت کب تک ناپاک رہتی ہے

آج کا مسئلہ یہ ہے کہ عورت بچہ پیدا کرنے کے بعد کتنے دن بعد وہ پاک ہوجاتی ہے ۔ آجکل ماحول بن چکا ہے خاص طور پر ہمارے معاشرے میں کہ عورت جب تک چالیس دن نہ گزار دے تب تک پاک نہیں مانتی ہے ۔ اسی طرح قرآن پاک پڑھنے ، نماز پڑھنے اور اگر رمضان المبارک کا مہینہ اس مہینہ میں بچہ پیدا ہوتا ہے چالیس دن تک اس کو روزہ رکھنے نہیں دیتے ۔ چالیس دن کا مقرر کردینا درست ہے یا نہیں آج آپ کو بتائیں گے ۔حیض کا کم سے کم مدت اور زیادہ سے زیادہ مدت ن فاس کا کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت ان دونوں کو چیز وں کا سمجھ لیں تو آپ کا مسئلہ صاف وشفاف ہوجائیگا ۔

حیض کے تین اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہیں اگر زیادہ ہوگیا تو بیماری اور کم ہوگیا تو پھر بھی بیماری ہے ۔ ن فاس کا کم سے کم مدت نہیں ہے لیکن زیادہ سے زیادہ چالیس دن بتایا گیا ۔ اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد تیرہ دن کے بعد خ و ن نہیں آتا تو تیرہ دن کے بعد پاک ہوجاتی ہے ۔ اگر کسی عورت کا پندرہ دن یا تیس دن آتا ہے تو اس کو اتنا ہی وقت تصور کیا جائیگا ۔ آج کل جو ماحول بن گیا ہے کہ چالیس دن کے پہلے تم پاک نہیں ہوسکتی ہے تو بنی بنائی بات ہے ۔اگر چودہ دن کے بعد بھی ن فاس کا خ و ن آنا بند ہوجاتا ہے تو چودہ دن کے بعد غسل کرکے نماز پڑھنا اس کیلئے فرض ہوجائیگا ۔

اگر قرآن پاک کو تلاوت کرنا چاہتی ہے تو وہ بھی کرسکتی ہے ۔اگر رمضان المبارک کے مہینے میں پاک ہوجاتی ہے خ و ن آنا بند ہوجاتا تو اس کیلئے روزہ رکھنا بھی فرض ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ شریعت نے کم سے کم مدت نہیں بتایا ہے بتایاگیا ہے کہ خ و ن آنا بند ہوگیا تو غسل کرکے پاک ہوجائیں۔ا س کے بعد نماز چھوڑے گی تو نماز چھوڑنے کا گ ن ا ہ ملے گا۔ اگر غسل کرکے اگر قرآن پاک کی تلاوت کرنا چاہے تو بلکل پاک ہے ۔لیکن آجکل جو ماحول بن گیا ہے کہ چالیس دن مقرر کرلیا گیا ہے تو یہ غلط بات جتنا آپ کا ن فاس کا خ و ن آرہا تو اس دن آپ ناپاک ہیں ۔

خ و ن نہ آنے کے بعد شریعت آپ کو پاک مانے گی ۔ نماز چھوڑے گی یا روزہ چھوڑے گی تو گ ن ا ہ گار ہوگی ۔آپﷺ نے ارشاد فرمایا ن فاس کا زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہیں مگر یہ ہے کہ اگر وہ اس سے پہلے پاکی کو دیکھ لیتی ہے تو پاک مانا جائیگا ۔آخری وقت چالیس دن ہیں لیکن اس سے پہلے پاکی ہو خواتین دیکھ لیتی ہیں تو اس پر ضروری ہے کہ وہ غسل کرے نماز پڑھے اور دوسرے کام سرانجام دے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین ودنیا سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے توفیق عطاء فرمائے۔