عورتوں کے بڑے آپریشن کی پیشنگوئی جو پوری ہورہی ہے ؛ شیط۔انی طاقتوں کی سازش اور عورتوں کا فتنہ

عورتوں کا فتنہ اس وقت زیادہ نقصان دہ ہے:حضرت حضرت اسامہ ابن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے بعد ایسا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ہے جو مردوں کے حق میں عورتوں کے فتنہ سے زیادہ ضرر رساں ہو۔مردوں کے حق میں عورتوں کے فتنے کو سب سے زیادہ ضرر رساں اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ اول تو مردوں کی طبائع عام طور پرعورتوں کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں

دوسرے یہ کہ مرد عام طور پر عورتوں کی خواہشات کے زیادہ پابند ہوتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ حارم امور میں گ۔رفتار ہوتے ہیں اور عورتوں ہی کی وجہ سے آپس کے لڑائی جھگ۔ڑے نف۔رت وعداوت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس کی ادنیٰ مثال یہ ہے کہ عورتیں ہی ہیں جن کی بےجا ناز برداریاں مردوں کو دنیا داری کی طرف راغب کرتی ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ دنیاداری سے زیادہ اور کون سی چیز ضرر رساں ہوسکتی ہے۔

کیونکہ سرکار دوعالم ﷺ نے اس کے بارہ میں فرمایا کہ حب الدنیا رأس کل خطیئۃ یعنی دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔ ارشاد گرامی اپنے بعد سے یہ بات ثابت ہوئی کہ عورتوں کے فتنے آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک میں کم تھے اور ان کا زیادہ ظہور آپ ﷺ کے بعد ہوا کیونکہ اس وقت حق کا غلبہ تھا اور نیکی کی طاقت تمام برائیوں کو دبائے ہوئے تھی جب کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آہستہ آہستہ باطل کی قوت بڑھتی گئی اور برائیوں کا غلبہ ہوتا گیا۔

اے ایمان والو تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن بھی ہیں سو ان سے بچتے رہو اور اگر معاف کر دو اور درگذر کرو اور بخش دو تو اللہ بھی بخشنے والا ہے مہربان ہے۔حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دنیا شیریں اور سبز جاذب نظر ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس دنیا کا خلیفہ بنایا ہے اس لئے وہ ہر وقت دیکھتا ہے کہ تم اس دنیا میں کس طرح عمل کرتے ہو

لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں کے فتنہ سے بچو کیونکہ بنی اسرائیل کی تباہی کا باعث سب سے پہلا فتنہ عورتوں ہی کی صورت میں تھادنیا شیریں اور سبز ہے ، کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شیرنی طبیعت کے لئے ایک مرغوب چیز ہوتی ہے اور اس طرح سبز چیز آنکھوں کو بہت بھاتی ہے اسی طرح دنیا بھی دل کو بہت پیاری لگتی ہے اور آنکھوں کو بھی بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے تمہیں دنیا کا خلیفہ بنایا ہے الخ، کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہی اس کا حقیقی مالک وحاکم ہے تمہیں اس نے زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر گویا اس دنیا کے تصرفات میں تمہیں اپنا وکیل بنایا ہے

لہذا اللہ تعالیٰ تمہیں ہر وقت دیکھتا ہے کہ تم اس زمین پر اس کے بارخلافت کو کس طرح اٹھا رہے ہو اور اپنی عملی زندگی کے ذریعہ تصرفات دنیا میں حق وکالت کس طرح ادا کر رہے ہو؟ یا اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ تم سے پہلے اس دنیا سے جا چکے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کا خلیفہ وارث بنایا ہے،

لہذا ان کے پاس جو کچھ تھا وہ سب تمہیں دیدیا ہے اور اب وہ تمہیں دیکھتا ہے کہ تم اپنے اسلاف کے احوال وکوائف سے کس طرح عبرت پکڑتے ہو اور ان کے اموال و میراث میں کس طرح تصرف وانتظام کرتے ہو۔ دنیا سے بچو الخ، کا مطلب یہ ہے کہ دنیا مکروفریب کا بچھا ہوا ایک جال ہے اس جال سے حتی الامکان بچتے رہو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جال میں پھنس کر دنیا کے ظاہری مال وجاہ پر اپنی دینداری گنوا بیٹھو

کیونکہ دنیا کو ثبات نہیں ہے یہ ایک فنا ہو جانیوالی چیز ہے پھر اس فناء کے بعد کل جب تم ہمیشہ کی زندگی کے لئے اٹھائے جاؤ گے تو اس کی حلال چیزوں کا حساب دینا ہوگا اور اس کی حرام چیزوں پر عذاب میں مبتلا کئے جاؤ گے ۔ اسی طرح عورتوں کے مکروفریب سے بھی بچتے رہو، کیونکہ ایک مشت خاک کا یہ دل فریب مجسمہ جہاں نیک عورت کی صورت میں اللہ کی ایک نعمت ہے وہیں بری عورت کے روپ میں فتنہ عالم بھی ہے

ایسا نہ ہو کہ بری عورتوں کی مکاریاں یا اپنی بیویوں کی بے جانازبرداریاں تمہیں ممنوع وحرام چیزوں کی طرف مائل کر دیں اور ان کی وجہ سے تم تباہی وہلاکت کی کھائیوں میں دکھیل دئیے جاؤ۔ بنی اسرائیل پر تباہی کے دروازے کھولنے والا پہلا فتنہ عورت تباہیوں کے دروازے کھلنے کا پہلا سبب اور ذریعہ بنا۔

حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تمہارے پاس کوئی شخص نکاح کا پیغام بھیجے اور تم اس شخص کی دینداری اور اس کے اخلاق سے مطمئن ہو تو اس کا پیغام منظور کر کے اس سے نکاح کر دو اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین پر فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو جائے گا ۔ یہ ارشاد گرامی دراصل عورتوں کے سرپرست اور ولیوں سے ایک خطاب اور ان کے لئے ایک ضروری ہدایت ہے کہ اگر کوئی دیندار اور اچھے اخلاق واطوار کا حامل شخص تمہاری بیٹی یا تمہاری بہن وغیرہ سے نکاح کا پیغام بھیجے تو منظور کر لو اور اس سے نکاح کر دو اگر ایسا نہ کرو گے

بلکہ ایسے شخص کے پیغام کو نظر انداز کر کے کسی مالدار یا ثروت دار شخص کے پیغام کی انتظار میں رہو گے جیسا کہ اکثر دینداروں کی عادت ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اکثر عورتیں بغیر خاوند کے بیٹھی رہ جائیں گی اور اکثر مرد بغیر بیوی کے پڑے رہیں گے اس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ بدکاری اور برائیوں کا عام چلن ہو جائے گا

بلکہ ان عورتوں کے سرپرست اور ولی بڑی بری قسم کی عار وغیرت میں مبتلا ہوں گے پھر جو لوگ ان کو عار اور غیرت دلائیں گے وہ ان سے لڑنے جھگڑنے لگیں گے آخرکار اس برائی وفحاشی اور لڑائی جھگڑے سے ایک ہمہ گیر فتنہ وفساد کی شکل پیدا ہو جائے گی۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا: ضرور عورت کو پکڑا جائے گا، پھر اس کا پیٹ چاک کیا جائے گا، اس کے بعد جو کچھ رحم میں ہوگا اس کو لے لیا جائے گا، لڑکا ہونے کے خوف سے اس کو نکال پھینکا جائے گا۔بچے کی پیدائش کے وقت خواتین کا بڑا آپریشن کرنا عالمی ادارۂ صحت کی خصوصی ہدایات کا حصہ ہے۔

ملک بھر میں پھیلی این جی اوز کی زندگی کا مقصد ہی یہ ہے کہ کسی طرح امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹا دیا جائے، این جی اوز کی جانب سے چلائے جانے والے اسپتالوں کے قصے عجیب و غریب ہیں۔ باطل قوتیں یہ کوشش کر رہی ہیں مسلمانوں کے بچے کم سے کم پیدا ہوں، ان کم کے بارے میں بھی ان کی کوشش یہ ہے کہ لڑکے پیدا نہ ہوں، اس کے لئے غذاؤں اور مشروبات کے اندر انہوں نے مختلف کیمیکل ملائے ہیں،

جیسا کہ منرل واٹر کے بارے میں محترم مفتی ابولبابہ شاہ صاحب (اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔ آمین) نے اپنی کتاب دجال، کون، کب کہاں میں لکھا ہے کہ منرل واٹر میں ایسے کیمیائی اجزا ملائے جاتے ہیں جن کے سبب لڑکیوں کی پیدائش کی شرح زیادہ ہوتی ہے، کوئی بھی منرل واٹر کی فیکٹری لگائے، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ قطرے ضرور پانی میں ملائے گا، اس کے بغیر اس کو فیکٹری کی اجازت نہیں ملے گی۔

یورپ و امریکہ میں کامیابی سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد، یہودیوں کا زور عالمِ اسلام کی آبادی کو کنٹرول کرنے کی جانب ہے، اس کے لئے بے شمار طریقے استعمال کئے جارہے ہیں، ابتدائی کوششوں میں یہ ہے کہ عوام کو میڈیا کے ذریعے ڈبہ بند غذاؤں اور مشروبات کی طرف لایا جائے۔

ان میں پیپسی، کوکا کولا اور منرل واٹر سر فہرست ہے۔غذائیت سے بھر پور اشیاء سے لوگوں کو ہٹا کر، برگر ، پیزا اور دیگر فاسٹ فوڈ کا عادی بنایا جائے، ان چیزوں کے استعمال سے پیٹ تو ضرور بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے، لیکن انسان کی قوتِ تولید کمزور ہوتی جاتی ہے، اس کا اندازہ آپ جہاں چاہیں کر سکتے ہیں، آپ ایک فاسٹ فوڈ کھانے والے کو دیکھئے،

دوسری جانب قدرتی غذاؤں کے استعمال کرنے والے کو دیکھئے، دیکھنے میں فاسٹ فوڈ کھانے والا پھولا ہوا نظر آئے گا، لیکن دونوں کی اندرونی طاقت میں کوئی موازنہ نہیں ہوگا۔ اس ابتدائی کام کے بعد ان عالمی شیطانی اداروں نے میڈیا ہی کے ذریعے اس بات کی محنت کی ہے کہ لڑکیوں کے دلوں میں شادی کی نفرت پیدا کی جائے،

دیر سے شادی کرنا، شادی کے جھنجٹ میں جلدی نہ پھنسنا، آزاد زندگی جینا، ان سب باتوں کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ مسلمانوں کو فطرت سے ہٹا کر غیر فطری راستوں پر ڈال دیا جائے، ایک بار جب پٹری تبدیل ہوگئی تو پھر سارا نظام ہی الٹ جاتا ہے، دیر سے شادی کرنے کے بہت سارے نقصانات ہیں، جن کو آپ معاشرے کی خراب صورتِ حال میں مشاہدہ کر سکتے ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین

Leave a Comment