توبہ قبول کروانے کی 7 شرطیں یا د کر لو

کونسی پکی اور پختہ توبہ ہوتی ہے جو اللہ کے ہاں قبولیت پالیتی ہے جس کے اندر سات شرطیں ہیں سب سے پہلی شرط توبہ استغفار کرے تو اللہ کی رضا کے لئے لوگوں کے ہاتھوں میں آپ نے دیکھا ہوگا تسبیح پکڑی ہوئی ہے اور بات کررہے ہیں اور زبان سے کلمہ کو نکلتا ہی نہیں اور باتیں جاری ہیں اس تسبیح اٹھانے کا کیا فائدہ ہوا کتنے لوگ دعا اس لئے کررہے ہیں کہ لوگ دیکھیں کیا یہ دعا کرتا ہے کیا اس کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ سے ان اللہ لا یقبل من العمل الا ما کان لہ خالصہ وابتغی بہ وجہہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول کرتے ہیں جو خالص اللہ کے لئے ہو جو خالص اللہ کی رضا کے لئے ہو اللہ کی خوشنودی مقصود ہو دنیا کو دیکھانے کے لئے توبہ نہ کرے دنیا کو دکھانے کے لئے رو کے نہ دکھائے یہ بہت روتا ہے اللہ کو راضی کرنے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے توبہ شروع کرے اور کیسے توبہ کرے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے

جو گناہ گار انسان ہے وضو کر لے اچھا دو رکعتیں پڑھ لے اور ہاتھ اُٹھا لے اور یہ کہہ دے رب اغفر لی رب اغفر لی اللہ رب العزت فرماتے ہیں عبدی اعمل ماشئت فقد غفرلک میرے بندے جو بھی تونے گناہ کئے جاؤ میں نے تجھے معاف کیا لیکن توبہ کرے اللہ کی رضا کے لئے دوسری شرط بدعت کو چھوڑے جب تک بدعت کو چھوڑ تا نہیں کوئی توبہ قبول نہیں ان اللہ احتجرالتوبہ ان کل صاحب بدعۃ حتی یدعھا اللہ تعالیٰ نے دوسری روایت کے الفاظ ہیں ان اللہ احجب التوبہ اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کے سامنے پردہ لٹکا دیا ہے کہ اس کو دیکھنا بھی مجھے پسند نہیں ہے جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کو ناقص سمجھتا ہے اور بدعات کو داخل کر کے مکمل کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دیکھنا ہی پسند نہیں کرتے حتی یدعھا جب تک یہ بدعت کو چھوڑے گا نہیں اس کی توبہ قبول ہی نہیں ہے اس سے پتہ چلا کہ ساری زندگی سجدے کرتا رہے بدعتی اس کی توبہ قبول ہی نہیں ہے اور سمجھنے والی بات ہے کیوں توبہ قبول نہیں جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ہی کامل نہیں سمجھتا اس کا ایمان کامل کیسے ہوگا ،یہودیوں کو بھی یقین تھا کہ دین مکمل ہوگیا ہے

عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس یہودیوں کی جماعت آئی صحیح بخاری کی روایت ہے اور آکے کہنے لگے آیت فی کتابکم لو نزلت علینا معشرالیہود لاالتخذنا ذالک الیوم عیدا مسلمانوں تمہاری کتاب میں ایک ایسی آیت ہے اگر یہودیوں پر اترتی تو جس دن یہ اتری تھی ہم اس دن کو عید کا دن مناتے اتنی بڑی آیت ہے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کون سی آیت یہودیوں نے کہا الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے دین کو مکمل کردیا اور اس نعمت کو مکمل کر دیا یہودیوں کو بھی یقین تھا کہ دین مکمل ہوگیا ہے جو دین کو پھر بھی ناقص سمجھتا ہے کہتا ہے کہ یہ چیز بھی دین کا حصہ ہے اور اللہ کے رسول نے نہیں بتائی نہیں سمجھائی نہیں کسی حدیث میں آئی نہیں قرآن میں اس کا کوئی اشارہ بھی یہ شخص اللہ کےر سول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کو کامل نہیں سمجھتا اس کی توبہ قبول کیسے ہوگی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment