مسجداقصیٰ پر برف باری قیامت کی عظیم الشان نشانی کا ظہور

مسلمانوں کا قبلہ اول کہلانے والی مسجد اقصیٰ جس پر حالیہ رپورٹ کے مطابق کہا جارہا ہے کہ اس کا سنہری دکھنے اوالا مینار یکا یک سفید رنگ میں بدل گیا ہے یعنی شدید برفباری کے باعث یروشلم میں ہر چیز نے گویا سفید چادر اوڑھ لی ہو جسے اہل علم کی طرف سے قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ روایات میں بتایا جاتا ہے کہ قرب قیامت ظاہر ہونے والی ستر چھوٹی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہو گی کہ مشرق وسطیٰ اور اس کی آس پاس کی موسمی حالت نہایت عجیب و غریب ہوجائے گی جب کہ تاریخی پس منظر میں دیکھیں تو بیت المقدس پر یہ موسم کافی عرصہ قبل دیکھنے کو ملا تھا

لیکن اب دوبارہ اچانک سے وہاں شدید برف باری اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ ضرور بضرور یہ معاملہ کسی ایسے ہی سلسلے کی ایک کڑی لگتا ہے جو کہ قیامت سے متعلق بہت پہلے بیان کیا جا چکا ہو یروشلم کے موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو شہر میں کئی سینٹی میٹر تک برف پڑ چکی ہے جس سے نظام زندگی درہم برہم ہوگئی ہے مختلف علاقوں میں سکول اور دفاتر بھی بند ہیں جب کہ کافی حد تک نظام زندگی مفلو ج ہو کر رہ گئی ہے جب کہ دوسری جانب دیکھا جائے تو ہمیں موجودہ دنیا میں صحیح معنوں میں مسلمانوں کااصل روپ بھی دیکھنے کو ملتاہے جو کہ شاید اس کرہ ارض کے بیشتر مسلمان باسیوں میں ناپید ہو چکا ہے ایسے کڑے حالات میں اسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے کڑی پابندیوں اور شدید برف باری کے باوجود ہزاروں فلسطینیوں نے اپنا جذبہ ایمان اور اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرنے کو یقینی بنایا

اطلاعات کے مطابق جیسا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ بیت المقدس میں فلسطینی نمازیوں کی نقل و حرکت پر کڑی پابندیا ں عائد کی گئی ہیں جب کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران بیت المقدس میں مسجد اقصی میں نماز جمعہ کے لئے غرب اردن سے آنے والے نمازیوں کی تین بسیں روک دی گئی تھیں تا کہ وہاں نماز پڑھنے اور مسلمانوں کی دیگر عبادات کو ختم کروایا جاسکے اور اس مقصد کے تحت مقامی ذرائع کے مطابق پرانے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے اطراف میں بیسیوں پولیس اہلکار اور فوجی تعینات کئے گئے تھے پولیس کے گشت کرنے والی پارٹیوں کی بڑی تعداد فلسطینی نمازیوں کو روکنے کی کوشش کرتے رہے حتی کہ جمعۃ المبارک کے دن صبح سویرے اسرائیلی فوج اور پولیس نے مسجد اقصٰی کے اطراف کو گھیرے میں لے لیا تھا اس کے باوجود نماز جمعہ ادا کرنے کی سعادت پانے والے کئی لوگ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوگئے اور یوں جمعہ کے روز پندرہ ہزار فلسطینیوں نے چالیس روز مسجد اقصیٰ میں نماز پر پابندی کے بعد قبلہ اول میں نماز جمعہ ادا کی لیکن نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد باب الاسباط اور دوسرے دروازوں سے باہر نکلنے والے نمازیوں کو روک لیا گیا ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment