تین کام آپ کا مُقدر بدل سکتے ہیں ؟

تین وظائف آپ کا مقدر بدل سکتے ہیں ۔1:تیسرے کلمے کی کثرت ۔2:درود شریف کی کثرت ۔3:استغفار کی کثرت۔ایک فقیر دریا کے کنارے بیٹھا تھا کسی نے پوچھا :بابا جی کیا کررہے ہو؟

فقیر نے کہا انتظار کر رہا ۃوں کہ مکمل دریا بہہ جائیں تو پھر پار کروں۔اس آدمی نے کہا کیسی بات کرتے ہو بابا مکمل پانی بہنے کے انتظار میں تو تم کبھی دریا پار نہیں کر پاؤ گے ،فقیر نے کہا: یہی تو میں تم لوگوں کو سمجھانا چاہتا ہوں کے تم لوگ جو ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہو کہ ایک بار گھر کی ذمہ داریاں پوری ہوجائیں تو پھر نماز پڑھوں گا داڑھی رکھوں گا، حج کروں گا، خدمت کروں گا جیسے دریا کا پانی ختم نہیں ہوگا

ہمیں اس پانی سے ہی پار جانے کا راستہ بنانا ہے اسی طرح زندگی ختم ہوجائے گی پر زندگی کے کام اور ذمہ داری کبھی ختم نہیں ہوں گی۔حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میری اُمت کے ستر ہزار یا سات لاکھ افراد (بغیر حساب و عذاب کے) جنت میں داخل ہوں گے، (راوی کو عدد میں سے کسی ایک کا شک ہے) یہ ایک دوسرے کو (نسبت کی وجہ سے باہم) تھامے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ اُن کا پہلا (قیادت کرنے والا) اور آخری شخص جنت میں داخل ہو جائے گا۔

اُن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری اُمت کے ستر ہزار افراد کا گروہ (بغیر حساب کے) جنت میں داخل ہو گا جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عکاشہ بن محصن نے اپنی اُون کی چادر کو بلند کرتے ہوئے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے اُن میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اِس کو اُن میں شامل فرما لے، پھر ایک انصاری شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی اُن میں شامل کر لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا ہے۔

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر سابقہ اُمتیں پیش کی گئیں تو ایک نبی گزرنے لگے جن کے ساتھ کثیر تعداد تھی، کسی نبی کے ساتھ گروہ تھا، کسی نبی کے ساتھ دس افراد تھے، اور کسی نبی کے ساتھ پانچ افراد تھے، اور کوئی نبی اکیلا ہی تھا، اُسی دوران میں نے ایک جمِ غفیر دیکھا تو پوچھا: جبرئیل! یہ میری اُمت ہے؟

اُس نے کہا: نہیں! بلکہ آپ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھیں تو میں نے عظیم جمِ غفیر دیکھا۔ اس نے کہا: یہ آپ کی اُمت ہے؟ ان میں سے پہلے ستر ہزار افراد بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے کہا: کیوں؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو نہ داغ لگوا کر علاج کراتے تھے، نہ غیر شرعی جھاڑ پھونک کراتے تھے، نہ بد شگونی لیتے تھے اور اپنے رب پر کاملاً توکل کرتے تھے۔

پس عکاشہ بن محصنص نے کھڑے ہوکر عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے اُن میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اِسے اُن میں شامل فرما لے، پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی اُن میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ اس پر تجھ سے پہل لے گیا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment