شب معراج کا واقعہ ، کائنات کیوں رک گئی

واقع معراج اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس واقع میں اللہ پا ک نے اپنے پیار ے پیغمبر ﷺ کو اپنی قدرت کا مشاہد ہ کروایا۔ واقع معراج اعلان نبو ت کے دسویں سال اور مدینہ ہجر ت سےایک سال پہلے پیش آیا۔ ماہ رجب کی ستائیویں رات ہے اللہ پاک فرشتوں سے فرماتا ہے:”اے فرشتوں! آج کی رات میری تسبیح بیان نہ کرو۔ میری حمد وتسبیح بند کردو۔ آج کی رات میری اطاعت و بندگی چھوڑ دو۔ اور آج کی رات جنت الفردوس کو لباس اور زیور سے آراستہ کرو۔ میری فرمانبرداری کا کولعہ اپنے سر پر باندھ لو۔ اے جبرائیل ؑ میرا یہ پیغام میکائیل ؑ کو سنا دو۔ کہ رزق کا پیمانہ ہاتھ سے علیحدہ کردے ۔

اصرافیل ؑ سے کہہ دو کہ کچھ دیر کےلیے صور کو موقوف کردے۔ عزرائیل ؑ سے کہہ دو کہ کچھ دیر کےلیے روح کو قبض کرنےسے ہاتھ اٹھالے”۔ حکم ربی ہوا کہ اے جبرائیل ؑ اپنے ساتھ سترہزار فرشتے لے جاؤ۔ اور جبرائیل ؑ جا کر ایسی سواری میسر کی جو آج تک کسی شہنشاہ کو میسر نہ ہوئی۔ ماہ رجب کی ستا ئیسویں رات کتنی پرکیف رات ہے۔ نصف رات ہونے کو ہے کہ یکایک آسمانی دروزاہ کھلتا ہے۔ انوار و تجلیات کو سمیٹے حضرت جبرائیل ؑ فرشتوں کے جھرمٹ میں جنتی براق لیے آسمان کی بلند یوں سے اتر کر حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لاتے ہیں۔

جہاں حضرت محمد ﷺ محو خواب ہیں۔ حضرت جبرائیل ؑ ہاتھ باندھ کرکھڑے ہیں کہ اگر اٹھایاتو بے ادبی ہوجائے گی۔ اسی وقت حکم ربی ہوتا ہے کہ اے جبرائیل ؑ میر ے محبوب کے قدموں کو چوم لے۔ تاکہ تیرے لبوں کی ٹھنڈ ک سے میرے محبوب کی آنکھ کھل جائے۔ اسی وجہ سے میں نے تجھے کافور سے پیدا کیا ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے ان کے قدموں کو چوما اور حضرت محمد ﷺ بیدا ہوئے۔ اور دریافت کرتے ہیں کہ اے جبرائیل ؑ کیسا آنا ہوا؟ اور عرض کرتے ہیں کہ خدائے بزرگ و برتر کی جانب سے بلاوے کا پروانہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔ اے حضوراکرمﷺ تشریف لے چلیے کہ زمین سے لے کر آسمان تک مشتاق دید کا ہجوم ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔

چنانچہ آپ ﷺ نے سفر پر جانے کی تیاری کی اور اس مو قع پر حضرت جبرائیل ؑ نے آپﷺ کے سینے کو چاک کیا۔ اور دل کو دھویا ۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :کہ میرے پاس آنے والے آیااور اس نے میرا سینہ چاک کیا اور میرا سینہ چاک کرنے کے بعداور میرا دل نکالا اور سونے کا طشت لایا گیا۔ جو ایمان وحکمت سے لبریز تھا۔ اس کے بعد میرے دل کو دھویا گیاپھر وہ ایمان وحکمت سے لبریز ہوگیا۔ اس قلب میں سینے اقد س کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔ حضرت جبرائیل ؑنے سینہ چاک کرکےان کے قلب کو آب زم زم کے پانی سے دھو یا اور سینہ مبارک میں رکھ کر سینہ بند کردیا۔

پھر آپ ﷺ کے سر پر عمامہ باندھا گیا ۔یہ عمامہ حضرت آدمؑ کی پیدائش سے سات ہزار سال پہلے بنایا گیا تھا۔ چالیس ہزار ملائکہ ان کے اردگرد کھڑے تھے۔ حضرت جبرائیل ؑنے حضرت محمد ﷺ کو ایک نو ر کی چادر پہنائی گئی۔ زبر د کی نعلین مبارک پاؤں میں زیب تن کئ گئی۔ یاقوت کا کمرباندھا۔ پھر وہ وقت بھی آگیا جب حضور اکرم ﷺ براق پر تشریف لے گئے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے رکاب سنبھال لی۔ حضرت میکائیل ؑ نے لگام تھام لی۔ حضرت اسرافیل ؑ نے زین کو سنبھالا۔

Leave a Comment