حمل کے کتنے عر صے تک قربت کر سکتے ہیں

حمل پرپانچ ماہ گذر جانے کی صورت میں بھی بیوی سے قربت کی اجازت ہے، بشرطیکہ جماع سے عورت کو تکلیف یا حمل کو نقصان پہونچنے کا اندیشہ نہ ہو ،یہ اولاد سےکوئی ناجائز نہیں ہے ،آپ نے جو سن رکھا ہے یہ غلط ہے۔ ہر وقت اور ہر حالت ميں بيوى سے لطف اندوز ہونا جائز ہے، الا يہ كہ جس سے شريعت نے منع كيا ہے كہ دبر ميں وطئ كرنا حرام ہے، اور اسى طرح حيض يا نفاس كى حالت ميں بھى جماع كرنا حرام كيا گيا ہے.

رہا مسئلہ حاملہ بيوى كا تو اس سے جماع كرنے كى حرمت كى كوئى دليل نہيں ہے، ليكن اگر خدشہ ہو بچے كو ضرر و نقصان پہنچےگا، اور اس ضرر كا اندازہ بھى تجربہ كار ليڈى ڈاكٹر ہى لگا سكتى ہے.اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے۔

حافظ ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كا كہنا ہے:يہ بچہ پيدا ہونے كى جگہ ہے يعنى جيسے چاہو آگے سے يا پھچلى جانب سے ايك ہى جگہ يعنى بچہ پيدا ہونے والى جگہ ميں جيسا كہ احاديث سے ثابت ہے.مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال كيا گيا:حمل كے عرصہ ميں خاوند كے ليے بيوى سے كب جماع سے اجتناب كرنا واجب ہوتا ہے ؟

اور كيا ـ خاص كر حمل كے پہلے تين ماہ كے دوران بيوى سےقربت كرنے سے بچے كے ليے نقصاندہ ہيں ؟كميٹى كے علماء كا جواب تھا: جب حمل كو ضرر اور نقصان نہ ہو تو حاملہ عورت سے جماع كرنے ميں كوئى حرج نہيں، بلكہ حائضہ عورت سے جماع كرنا ممنوع ہے۔

نفاس والى عورت بھى اس طرح ہے كہ اس سے پاك ہونے تك جماع نہيں كيا جائيگا، اور اسى طرح حج اور عمرہ كا احرام باندھنے والى عورت سے بھى اس كے بارہ ميں تجربہ كار ليڈى ڈاكٹر سے رابطہ كيا جائے كيونكہ يہ عورت كى طبيعت اور حمل كے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، اور حمل كے نتيجہ ميں پيدا ہونے والے اثرات كے اعتبار سے ہوگا،

جو مختلف ہوتے ہيں، اور اسے ماہر ليڈى ڈاكٹر ہى بتائےگى.ليكن اصل كے اعتبار سے يہى ہے كہ حمل كى حالت ميں قربت كرنے سے نہ تو عورت كو كوئى نقصان ہے، اور نہ ہى بچہ كوكوئى ضرر ہوتا ہے۔

بلكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو پيٹ ميں پائے جانے والے بچے كو كھيتى سے مشابہت دى ہے، اور آدمى كى منى كو اس پانى سے جو اس كھيتى كو لگايا جاتا ہے.يہ اس بات كى دليل ہے كہ آدمى كے پانى سے ماں كے پيٹ ميں بچے كو فائدہ ہوتا ہے، جس كا معنى يہ ہوا كہ حالت حمل ميں بيوى كے ساتھ قربت كرنا اور رحم ميں انزال كرنے سے فائدہ ہوتا ہے نقصان نہيں.

رہا مسئلہ كہ بچے كى پيدائش جلد ہو جاتى ہے، يہ قول صحيح نہيں، الا يہ كہ اگر جماع بڑى زبردستى اور شدت سے كيا جائے، اور عورت كا رحم كمزور ہو تو پھر تجربہ كار لوگوں كا قول يہى ہے۔

Leave a Comment