بینک میں نوکری کرنا جائز یا ناجائز ہے

آج ہم آپ کو بینک میں نوکری کرنے کے حوالے سے بتائیں گے کہ اس کی نوکری کرنا کیسا ہے اس کی تفصیل کچھ یوں ہے وہ بینک جو سود کا کاروبار کرتے ہیں وہاں کام کرنا جائز ہے کہ نہیں ۔وہاں کام کرنا جائز نہیں ہے رسول اللہﷺ کا فرمان ہے سود کھانے والے پر کھلانے والے پر گواہوں پر اور کتابت کرنے والے پر سب پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ۔

وہ سب کے سب اس جرم میں برابر شریک ہیں۔اس لیے وہ بینک جو سود کے ساتھ تعامل کرتے ہیں ایسے بینک میں کام کرنا جائز نہیں ہاں اگر کوئی ایسا بینک موجود ہے جو اسلامی طریقہ سے بینکاری کرتا ہے

اس میں اس کی گنجائش علماء نے دی ہے شرط یہ ہے کہ کوئی ایسے معاملات نہ ہوں جو اس کو سود کی طرف لے جائیں۔ گواہ کے طور پر شامل ہونے والا بھی اس کے جرم میں برابر ہے ۔کمپیوٹر پر بیٹھ کر ڈرافٹنگ کرنے والا وہ بھی اتنے ہی جرم میں برابرہے تو اس سے بچنا چاہیے ۔جو شخص سود کھاتا ہے یا سودی نوکری کرتا ہے تو اس کوچھتیس مرتبہ زن ا کے جتنا گ ن ا ہ ہے ۔

بہتر دروازے سود کے ہیں سب سے گھٹیا گ ن ا ہ سود کا یہ ہے کہ وہ اپنی والدہ کیساتھ بد ک اری کرے ۔ایک شخص جوکہ بہت بڑے مینجیریل رتبے پر تھے ۔ کافی عرصہ وہ بینک میں کام کرتے رہے ۔جب ان کو سمجھ میں آیا انہوں نے دو مہینے تھے ریٹائرمنٹ جب انہوں نے نوکری چھوڑدی ۔ان کی چھتیس سال کی نوکری تھی تو ان کو ریٹائرمنٹ کاپیسہ بھی نہیں ملا ۔

ان کے مالک کے نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کا پیسہ لیکر صدقہ کردیں تو انہوں نے کہا نہیں میں اس پیسے کا صدقہ نہیں کروں گا۔ ایک اور شخص جو کہ برانچ منیجر پوزیشن سے استعفیٰ دیا جب ان کو سمجھ میں آیا کہ سودی نظام کا سمجھ آیا تو اس کو حرام دیکر ایسے رزق کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔ لوگ کہتے ہیں کہ تجارت بھی تو ایسے ہیں کم پیسے لیکر زیادہ پیسے پر بیچ دیتے ہیں

لیکن ان دونوں میں فرق تجارت حلال ہے اور سودی نظام حرام ہے ۔ایسے لوگ جن کو بات سمجھ میں آجائے تو وہ ضروری اس پر عمل کرلیتا ہے۔حرام چیز کو چھوڑنا اللہ تعالیٰ کیلئے ہوتا ہے اس کا اجر بھی اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔

آپ لوگوں کو پتاہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ حرام کھانے والوں کی عبادت اسکی دعا کو کبھی قبول نہیں کرتا ہے ۔آپﷺ فرماتے ہیں صحیح مسلم کی روایت ایک شخص ہے جو مصیبت وپریشانی میں ہے اس کی اونٹنی بھی ریگستان میں بھاگ گئی وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ کپڑا اٹھا کر دعا کرتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کی دعا کیسے قبول کروں کہ اس کا کھانا حرام اس کا پینا حرام اس کا پہننا حرام ہے ۔

جن بچوں کی پرور کررہے ہوں وہ بھی حرام کھارہے ہوں گے ۔بالغ ہونے پر اللہ تعالیٰ ان کو بھی دعا قبول نہیں کریں اسی لیے اللہ تعالیٰ کا خوف رکھیے اور حرام وحلال میں تمیز کیجئے تاکہ ہم سب مسلمانوں کی آخرت بچ سکے۔ینک کی آمدن میں سود اور ناجائز منافع کا غلبہ ہوتاہے، نیز سودی اور ناجائز معاملات میں تعاون بھی ہوتا ہے۔

اس لیے بینک کی ملازمت جائز نہیں ہے،اور اس ملازمت سے ملنے والی آمدن حرام ہے۔کسی جائز ذریعہ سے ملازمت تلاش کرنی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم۔ فتوی نمبر : 144004200189دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Leave a Comment