میاں بیوی کا نہاتے ہوئے قربت کر نا جائز ہے

ایک سوال آ یا ہے کہ کیا میاں بیوی ایک ساتھ نہا سکتے ہیں۔ تو میاں بیوی اکٹھے ایک ساتھ نہا سکتے ہیں بالکل نہا سکتے ہیں اسی طرح اس سے ملتا جلتا ایک اور سوال آیا ہے کہ کیا وہ نہانے کے دوران قربت کر سکتے ہیں تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ جی ہاں وہ نہانے کے دوران بھی قربت کر سکتے ہیں۔

وہ نہانے کے دوران قربت بھی کر سکتے ہیں شریعت نے کوئی پابندی نہیں لگائی ہے اس مسئلے میں کہ وہ نہاتے ہوئے قربت نہیں کر سکتے البتہ اس بات کا کبھی ہوتا ہے کہ یہ سوالات کیوں پیدا ہوتا ہے کہ جب ہمارے ہاں کے لوگ اس طرح کی چیزیں دیکھتے ہیں خصوصاً مغرب کی روایات کو دیکھتے ہیں۔

بہت ہی دیکھتے ہوں گے ۔ تو اس کی نقل کر نا چاہتے ہیں اس کی نقل کے لیے پھر وہ دین میں دیکھتے ہیں کہ آیا کہ اس کی اجازت ہے کہ نہیں عجیب معاملہ ہے خیر کر نا جو چاہتے ہیں اجازت ہے پر وہ نہیں ہے کہ کر و ہی کرو شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی باتھ روم میں قربت کر نا بھی جائز ہے اور نہا نہ بھی جائز ہے ۔

اگر چہ دونوں کے درمیان پردہ نہ ہو اس میں کسی قسم کی کوئی قبا حت نہیں ہے اور دونوں کا ایک دوسرے کے پرائیویٹ پارٹس کو ٹچ کر نا دیکھنا جائز ہے لیکن کیونکہ سوالات اتنی کثرت سے آرہے ہیں مجھے بھی بڑا عجیب لگ رہا ہے۔

اس بات کو بیان کر تے ہو ئے لیکن اب لوگ جو پو چھ رہے ہیں تو اسی لیے اس پر بات کر رہا ہوں خیر بہر حال اس یہ ذاتی معاملہ ہے جو کرتے ہیں بڑا عجیب سا لگتا ہے اس طرح کے معا ملات پوچھتے ہیں کچھ لوگ حدیثِ مبارکہ بھی پیش کر تے ہیں کہ حضورِ اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ ‌ؓ سے مروی ہے

کہ میں اور اللہ کے رسول ﷺ ایک ہی برتن سے غسل فرماتے جو میرے اور ان کے درمیان ہوتا تھا۔ تو مجھ پر سبقت فرما تے۔ کہ میرے لیے بھی رہنے دیجئے۔ یہ صحیح مسلم کی روایت ہے ۔

اسی سے ملتی جلتی روایت بخاری شریف میں بھی آتی ہے۔اچھا ایک پوائنٹ یہاں پر یہ بھی بتا دوں کہ جو منکر ِ حدیث ہیں وہ اس حدیث کو اس طرح بیان کر تے ہیں کہ اللہ کے نبی ایک ہی برتن میں غسل فر ما تے تھے تو لوگوں کو عجیب و غریب سے تہمات پہنچاتے ہیں یہ چھوٹے چھوٹے الفاظ ہوتے ہیں

جن کے اندر جو ہیں وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک ہی برتن سے غسل فرماتے تھے نا کہ میں ۔ میں اور اللہ کے رسول ﷺ ایک ہی بر تن سےغسل فرما تے ۔ وہ مجھ سے سبقت فرماتے اور میں ان سے سبقت کر تی۔

Leave a Comment