ایک آدمی نے حضرت علی ؓ سے سوال کیا کہ میری داڑھی میں کتنے بال ہیں

امیر المومنین حضرت علی ؓ کی زندگی کا آخری سال تھا کہ ایک دن آپ نماز ادا کرنے کے بعد منبر پر بیٹھ گئے آ پ نے خطبہ پڑھا اور لوگوں کو وعظ ونصیحت کرنے لگے اس کے بعد ارشاد فرمایا اے لوگو دوسرے لوگوں کی طرح مجھے بھی عنقریب اس دنیا سے رخصت ہونا ہے پس مجھ سے وہ باتیں پوچھ لو جو تم نہیں جانتے

تاکہ تمہاری معلومات میں اضافہ ہومجلس میں چند لمحے خاموش رہی اس کے بعد ایک کوفی نوجوان اپنی جگہ سے اٹھا اور کہنے لگا اے علی ؓ اب جب کہ آپ ہر چیز جانتے ہیں تو مجھے بتائیں کہ میری داڑھی میں کتنے بال ہیں حضرت علی ؓ مسکرائے اورپنے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے

لیکن ابھی آپ نے کوئی بات ثروی نہ کی تھی کہ مجلس کی خاموشی ٹوٹ گئی اور ہر طرف سے چہ میگوئیوں کی آوازیں آنے لگیں سب نے اپنی گردنیں بلند کیں اور سوال کرنے والے کو دیکھنے لگے اور اتنظار کرنے لگے کہ آپ اس سوال کا کیا جواب دیتے ہیں حاضرین میں کچھ دشمن بھی موجود تھے

اس لیے کہنے لگے آج علی کو جواب نہ دے سکیں گے ہر شخص کی داڑھی کے بالوں کی تعداد الگ الگ ہوتی ہے ۔اس لیے حضرت علی کو کیسے معلوم ہے کہ اس کے بالوں کی تعداد کتنی ہے اسی طرح حضرت علی کے نادان دوست کہنے لگے حضرت علی ؓ اس کی دارحی کے بالوں کی تعداد بتا دیں گے دانا دوست کہنے لگے جو کچھ بھی ہے حضرت علی کا جواب درست اور مناسب ہوگا جس شخص نے سوال کیا تھا اپنی جگہ پر کھڑا تھا اور سوچ رہا تھا کہ معلوم نہیں علی کو میرے سوال جواب معلوم ہے یا نہیں۔

اگر اس نے کہہ دیا تین ہزار تو کیسے معلوم ہوگا کہ یہ جواب درست ہے یا نہیں اس طرح مجبوراً علی کا جواب قبول کرنا ہوگا لیکن اس کی دلیل بھی دریافت کروں گا اگر علی نے مزاح کرتے ہوئے جواب دیا کہ تمہاری داڑھی کے بالوں کی تعداد تمہارے سر کے بالوں سے نصف ہے تو اس وقت پوچھوں گا کہ میرے سر کے بالوں کی تعداد کتنی ہے ۔

شاید یہ کہہ دیں کہ تمہاری داڑھی سے بالوں سے دگنی پھر اس وقت اعتراض کروں گا کہ یہ تو مزاح ہے میں تو درست جواب چاہتا ہوں چند لمحوں کے بعد حضرت علی ؓ نے حاضرین سے پوچھا اے بھائیوں اس سوال کا درست جواب کون جانتا ہے حاضرین میں سے کوئی شخص جواب دینے کیلئے تیار نہ ہوا او رمجلس میں چند لمحے خاموشی رہی اس کے بعد پھر سر گوشیاں شروع ہوگئیں

دشمنوں نے دوستوں سے کہا تم نے دیکھ لیا نا کہ علی ؓ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے نادان دوست کہنے لگے کیوں نہیں علی ؓ کو سب کی داڑھی سر بلکہ بدن کے بالوں کی تعداد بھی معلوم ہے ابھی صبر کرو

تاکہ سب کچھ معلوم ہوجائے دانا دوست کہہ رہے تھے جلدی نہ کرو حضرت علی ؓ چاہتے ہیں کہ ہمیں سوچنے کا وقت دیں تاکہ تمہارے جواب کی طرف متوجہ ہوں کسی نے جواب نہ دیا حضرت علی ؓ کی خدمت میں ایک قنبر نامی ایک آزاد کردہ غلام رہتا تھا ۔جو مکتب علی ؓ کا تربیت یافتہ آپ کا خدمت گار اور جانثار تھا سب لوگ قنبر کو پہچانتے تھے

جب بھی حضرت علی ؓ مسجد سے نکلتے تو قنبر آپ کے ہمراہ رہتا اس موقع پر بھی قنبر درواز ہ پر نہایت خاموشی سے کھڑا مسجد میں ہونیوالی گفت وشنید سن رہا تھا جب مجلس سے کوئی شخص جواب دینے کیلئے نہ اٹھا تو علی نے قنبر کو آواز دی اور کہا آؤ اور اس شخص کو جواب دو لوگ اس طرح چہ میگوئیاں کررہے تھے

دشمن کہہ رہے تھے کہ علی ؓ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اورپہلی تہی سے کام لے رہے ہیں ابھی تھوڑی دیر میں قنبر اپنی تلوار کی زبان سے اس شخص کو دندان شکن جواب دے گا نادان دوست کہہ رھے تھے حضرت علی ؓ چاہتے ہیں کہ اس شخص کو سمجھائیں کہ قنبر بھی تمہاری داڑھی کے بالوں کی تعداد جانتا ہے اس لیے میرے لیے اس کا جواب دینا ضروری نہیں ہے

دانا دوست کہہ رہے تھے اس شخص کا سوال اتنا اہم نہیں ہے کہ خود حضرت علی ؓ اس کا جواب دیں حالانکہ قنبر بھی اسے جانتا ہے اسی طرح ہر شخص کچھ نہ کچھ کہہ رہا تھا قنبر نے سوال کرنے والے کوفی نوجوان سے کہا اے مرد اگر تم لوگوں کے بدخواہ نہیں ہو اور سچے ہو تو اس بات کی تصدیق کرو کہ اس سوال سے تمہارا مقصد کیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا مقصد اپنے علم میں اضافہ نہیں

بلکہ تمہاری غفلت اور بدبختی نے اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے پیشوا سے عجیب وغریب سوالات پوچھوں یا پھر چاہتے ہوکہ اپنے آپ کو نازک مزاج اور زیرک ثابت کرو اور حیر ت انگیز سوالات سے جاہلوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا چاہتے ہو یا شاید سمجھتے ہوکہ تم نے کوئی اہم اور مشکل مسئلہ دریافت کیا ہے جس کا کوئی جواب نہیں

لیکن یاد رکھو حضرت علی ؓ کو وہ تمام باتیں معلوم ہیں جس میں تمہاری بھلائی ہے میں تمہیں جواب دے سکتا ہوں لیکن اس سے قبل کہ تمہارے سوال کا جواب دوں تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہاری داڑھی کے ہر بال میں ایک شیطان چھپا بیٹھا ہے جو تمہارے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور تمہیں راہ راست سے دور کررہا ہے اے مرد ہم ہر روز پانچ نمازوں میں کئی مرتبہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں

کہ ہمیں سیدھے اور نیکیوں کے رستہ پر چلا اور ہمیں محرومیوں اور گمراہوں کے رستہ سے دور رکھ لیکن تمہارا سوال اس قسم کا نہیں ہے کہ گمراہی سے بچے رہو جو شخص راہ راست کی تلاش میں رہتا ہے وہ نیکی اور بھلائی کے سوالات پوچھتا ہے ۔اور ایسی دعا مانگتا ہے کہ جس کے جاننے یا حاصل کرنے میں اس کی اپنی یا دوسروں کی سعادت اور بھلائی ہو یہ تو محض شیطان کا وسوسہ ہی ہوسکتا ہے

جو انسان کو ایسی چیزوں کو پوچھنے اور جاننے پر آمادہ کرتا ہے جس میں کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا میں تمہارا جواب دے سکتا ہوں لیکن یاد رکھو انسان کی عمر چھوٹی ہے جو لوگ اپنا وقت عمر اور سوچ بے ہودہ باتوں میں ضائع کردیتے ہیں تو انہیں مفید باتوں کے سیکھنے کا موقع نہیں ملتا ۔

اس لیے ہر روز تہی دست رہتے ہیں اس وقت ان کی کوئی قدروقیمت نہیں رہتی وہ کمزور اور زیردست بن جاتے ہیں اور دشمن ان پر غلبہ پالیتا ہے پھر ایسے لوگ آجاتے ہیں جو ان پر حکومت کرتے ہیں ہماری رہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے جس میں کوئی کمی بیشی نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی کتاب بھی آسمان ے ستاروں فرشتوں اور پیغمبروں کی تعداد بیان کرتی ہے

اس لیے کہ کئی چیزوں کا شمار بے حاصل ہے ۔جب تک اس میں فائدہ نہ ہو ۔اس لیے مجھے بتاؤ کہ تمہار ا پیشہ کیا ہے سوال کرنے والے نے کہا میرا پیشہ ترازو سازی ہے میں کھجور کی لکڑی اس کے ریشے اور پتوں سے ترازو بناتا ہوں اور فروخت کرتا ہوں لیکن میرے پیشے اور میرے سوال میں کون سا ربط ہے قنبر نے کہا اسمیں ربط یہ ہے کہ اگر ایک ترازو ساز ایک ایک سال خرچ کرے اور کوشش کرے کہ عمدہ اور بہتر ترازو بنائے تو یقیناً ایسے ترازو کی پائیداری اور فائدہ زیادہ ہوگا

لیکن اگر وہ دو دن صرف کرے اور خود ہی اندازہ کرتا رہے کہ چنچ ماش اور چنا کے دانے ہم وزن ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے اپنا وقت ضائع کیا ہے ۔ایسے سوال کی حیثیت دوسروں کا وقت ضائع کرنے اور بچوں کے افکار کو گمراہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ سوال پوچھنے والے نے شرمندگی سے کہا اے قنبر تو نے درست کہا ہے اورمجھے غفلت کے خواب سے بیدا کردیا ہے۔

Leave a Comment