میری کوئی بھی دوائی کام نہیں کرتی میں کیا کروں

مجھے بیس سال سےکمر میں درد ہے کوئی علاج فائدہ نہیں دے رہا کیا کروں؟ ایک تو آپ زمزم پی کر یہی دعا شفاء کی مانگیں اور دوسرا علماء نے یہ لکھا ہے کہ سورۃ الکافرون جو ہے جمعہ کے دن ایک ہزار دفعہ پڑھ کر سرسوں کے تیل پر دم کر کے رکھ لیں جیسا بھی کمر کا درد ہوگا وہ سارا درد ختم ہوجائے گا ۔کسی بھی قسم کی بیماری ہو ،اسکا علاج کرنا سنت ہے اور علاج سے کبھی گریز نہیں کرنا چاہئے ۔

بحثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ بیماریاں اللہ کی جانب سے امتحان و آزمائش ہیں جن کا علاج ادویہ سے کرنا چاہئے تو سنت کے مطابق ان کا روحانی علاج کرنا بھی جائز اور مستحب عمل ہے۔اللہ کا وعدہ ہے کہ بیماریوں سے شفا بھی اسی کی جانب سے ملتی ہے۔اس کے لئے بندے کو اپنے ربّ سے ایسے طریقہ سے دعا کرنی چاہئے کہ دوا میں تاثیر پیداہو جائے ۔

بے تحاشاادویات کھاتے رہنے سے جب کوئی مرض دور نہ ہوتو دیکھا گیا ہے کہ ساتھ روحانی عمل کرنے سے مرض سے جلد افاقہ ہوجاتا اور مرض جڑوں سے غائب بھی ہوجاتا ہے۔بس بندے کو دعا کا سلیقہ آنا چاہئے۔اس کے اندر عاجزی اور اخلاص ہونا چاہئے۔جو لوگ اس دعا کو روزانہ پڑھیں اور ایک تسبیح مکمل کرنے کے بعد اسکو پانی پر پھونک کر پی لیا کریں تو جہاں انکو جسمانی عوارض سے نجات ملے گی وہاں باطنی طور پر بھی اسکو سکون ملے گا۔

یہ مرض بے شک دنیاوی الجھنوں پر مشتمل کیوں نہ ہو ں،ان سے نجات کے لئے بندے کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اپنی عبادات و اذکار میں ثابت قدم رہنا چاہئے۔اس دعا کو بطور تسبیح کرنے والے خود کو کبھی اکیلا نہیں سمجھتے ،ایک طاقت ان کے ساتھ رواں رہتی ہے۔مایوسی اور ڈپریشن کا مجرب عمل ہے ۔

جن لوگوں میں منفی خیالات پیدا ہونے لگ جائیں ان کے لئے بڑا سودمند عمل ہے۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: “اللہ کے رسول! مجھے رات کو بچھو کے کاٹنے کی وجہ سے بہت زیادہ تکلیف ہوئی” تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر تم شام کے وقت کہہ دیتے کہ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں اس کی تمام تر مخلوقات کے شر سے تو تمہیں وہ نقصان نہ پہنچاتا

عبد اللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: ہم ایک شدید اندھیری اور بارش والی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو تلاش کرنے کے لیے نکلے کہ آپ ہمیں نماز پڑھا دیں تو ہم نے آپ کو تلاش کر لیا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ملتے ہی کہا: (کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟) تو میں نے کوئی جواب نہیں دیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (کہو) تو میں نے کچھ نہ کہا،

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پھر فرمایا: (کہو) میں نے پھر بھی کچھ نہیں کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تیسری بار فرمایا: (کہو) میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول میں کیا کہوں؟

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم صبح اور شام کے وقت کہا کرو: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور اس کے ساتھ سورت الفلق اور سورت الناس تین تین بار پڑھا کرو، یہ تمہیں ہر چیز سے کافی ہو جائیں گی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment