سارے گناہ معاف اور ساری بیماریاں ختم سب سے افضل دعا جو نبی ﷺ نے صحابی ؓ کو بتائی۔

نبی نے ساتویں دعا یہ بیان فرمائی ہے لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم لا الہ الا اللہ رب العرش العظیم لا الہ الا اللہ رب السماوات ورب الارض ورب العرش العظیم یہ دعا پڑھ لیجئے بخاری مسلم کی روایت ہے جس غم اور مصیبت میں مبتلا ہے رب تعالیٰ اسے دور فرمادیتے ہیں

آپ کے صحابی سیدنا ابو بکر ؓ منبر پر چڑھے رونے لگ گئے اور کہتے ہیں ایک بات یاد رکھئے اللہ سے کثرت سے عافیت مانگا کرو اور معافی بھی مانگا کرو یا اللہ ہمیں معاف بھی کردے اور ہمیں ہر بیماری سے بھی بچا کے رکھ دوسرے سال پھر ایسا کیا اللہ کے رسول کے پاس ایک دن ایک شخص آیا دوسرے دن آیا تیسرے دن آیا کہ سب سے افضل دعاکونسی ہے

آپ نے فرمایا اسئلک اللہ العفو والعافیہ اس سے افضل دعاکونسی ہوسکتی ہے کہ آپ اللہ سے یہ مطالبہ کریں اللھم انی اسئلک العفو والعافیہ اللہ میں تجھ سے عافیت بھی طلب کرتا ہوں معافی بھی طلب کرتا ہوں معافی کیا ہے کہ سارے گناہوں کو صاف کردے عافیت کیا ہے

کہ دنیا میں بیماریوں سے میرا جسم پاک کردے تو کثرت سے یہ دعاکرنا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح اور شام کے وقت یہ دعا پڑھنا نہ چھوڑتے دعا (اللہم انی اسألک العافیۃ فی دینی ودنیای واہلی ومالی اللہم استر عوراتی واٰمن روعاتی اللہم احفظنی من بین یدی ومن خلفی وعن یمینی وعن شمالی ومن فوقی اعوذ بعظمتک ان اغتال من تحتی)۔

اے اللہ میں تجھ سے دنیا و آخرت کی عافیت مانگتا ہوں یا الٰہی میں تجھ سے گناہوں کی معافی چاہتا ہے اور اپنے دین اور اپنی دنیا کے امور میں عیوب اور برائیوں سے اور اپنے اہل و عیال اور اپنے مال میں سلامتی مانگتا ہوں اے پروردگار میرے عیوب کی پردہ پوشی فرما اور مجھے خوف کی چیزوں سے امن میں رکھ(یعنی میری مصیبت اور بلائیں دور فرما) اور اے اللہ تو مجھے آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے اوپر سے محفوظ رکھ اور اے اللہ تیری عظمت و کبریائی کے ذریعہ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں

کہ ہلاک کیا جاؤں اچانک نیچے کی جانب سے یعنی زمین میں دھنس جانے سے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اذان اور اقامت کے درمیان دعائیں رد نہیں ہوتیں، صحابہ نے عرض کیا کہ پھر کونسی دعا مانگیں؟

تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت مانگو.حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے خطبے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت مانگو اسلئے کہ ایمان اور یقین کے بعد سب سے بڑی نعمت عافیت کی ہے اور یہ آپ علیہ السلام کی نصیحت ہے.معافات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی انسان کو لوگوں کے شر سے محفوظ کرے اور لوگوں کو اس کے شر سے محفوظ کرے،

انسان کو لوگوں سے مستغنی کردے اور لوگوں کو اس سے مستغنی کردے، کہ انسان لوگوں کو معاف کردے اور لوگ اس کو معاف کردیں.ابن اثیر کہتے ہیں کہ عفو کا معنی گناہوں کی بخشش اور عافیت کا معنی بیماریوں سے حفاظت اور معافات کا معنی لوگوں کو تیرے شر سے اور تجھے ان کے شر سے محفوظ کیا جائے.اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین