ناپاکی کی حالت میں زیر ناف بال اور ناخن کاٹنا جائز نہیں

حالت حیض میں یعنی کہ ماہواری کے دنوں میں جب عور ت ناپاکی کی حالت میں ہوتی ہے تو اس حالت میں عورت اپنے زیر ناف بالوں اور ناخن کاٹ سکتی ہے۔ یا نہیں کاٹ سکتی ہے۔ اس کے بارے میں شریعت کا اصول و ضوابط کیا ہے؟

ناپاکی کے اندر، حیض کی حالت میں عورت اپنے زیر ناف بال اور ناخن کاٹنے کے بارے میں شریعت کا اصول و ضوابط کیا ہے۔ دیکھیں (فتوٰی ہدیہ ، جلدنمبر پانچ، صفحہ نمبر چار سو چودہ)کے اندر فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اس کے بارے میں تحقیق کی گئی کہ حالت حیض میں عورت اپنے زیر ناف بال کاٹ سکتی ہے اور ناخن کاٹ سکتی ہے یا نہیں ۔ تو ایک تسلی بخش جواب نہیں ملا ہے لیکن ایک جواب ضرور ملا ہے۔

کہ جنابت کی حالت میں ، جو ناپاکی کی حالت میں ہویا حالت حیض میں ہو، چاہے ناپاکی میں غسل کیا ہو۔ اب کوئی بھی ناپاکی ہو تو اس صورت کے اندر فقہاء کرام یہ کہتے ہیں فتویٰ ہدیہ کے اندر کہ ناپاکی کی حالت میں عورت کا اپنے زیر ناف بال کٹوانا اور ناخن کٹوانا مکروہ ہے۔ لہذا جو حالت حیض ہوتا ہے وہ بھی انسان ناپاک ہوتا ہے۔

اور عورت ناپاک ہوتی ہے۔ تو حالت حیض کے اندر بھی عورت اپنے زیرناف اورناخن نہیں کٹوا سکتی ہے۔ کیونکہ اس وقت عورت ناپاک ہوتی ہے تو اس وجہ سے کٹوانا بھی مکروہ ہے۔ اب آپ خود سوچیے کہ ایک موٹا آدمی ہے اوراس کا پیٹ باہر کو نکلا ہوا ہے تو زیرناف بال کو کاٹنے میں مشکل پیش آئے گی۔

تو سوال یہ ہے کہ مرد یہ کام کر سکتا ہے جی ہاں! شریعت اس بات کی بالکل اجازت دیتا ہے۔ کیونکہ قرآن پاک کے مطابق میاں بیوی ایک دوسرے کا ستر ہیں۔ ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ تو بعض کوئی مجبوری یا عذر ہے تو شوہر یا میا ں اپنی بیوی کے زیرناف بالوں کا کاٹ سکتا ہے۔تو شوہر کو ایسی پریشانی یا عذر ہے۔ تو بیوی بھی اس کے زیر ناف بال کاٹ سکتی ہے۔

اب زیرناف بال کو کاٹنے میں کوئی شرم یا قباحت نہیں کیونکہ شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے۔ لیکن ایک بات خیال رکھنا ضروری ہے وہ کیا ہے؟ کہ اگر آپ ایک دوسرے کے زیرناف کے بال کاٹ رہیں ہیں۔ توخیال رکھے کہ شرمگاہ کی طرف نگاہ نہ رکھے۔کیونکہ ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنے سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

جو بھولنے کی بیماری ہے وہ پیدا ہوجاتی ہے۔ تولہذا اس معاملے میں اس بات کا خاص احتیا ط رکھنا ضروری ہے ۔ کہ شوہر بیوی کے یا بیو ی شوہر کے زیرناف بال کو کاٹ سکتی ہے لیکن ایک دوسرے کی شرمگاہ کی طر ف نہیں دیکھنا ۔ یعنی شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اگر عورت حمل کی حالت میں ہے ۔ اگر اس کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا ہے۔

یا ایسا کوئی شرعی عذر ہے یا بیماری ہے یا ایسا کوئی معاملہ ہے۔ یا موٹاپے کی وجہ سے پیٹ باہر نکلا ہوا ہے۔ اور اس کا ہاتھ نہیں پہنچ پارہا۔ تو میاں بیوی کو شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے۔ کہ وہ ایک دوسرے کے زیر ناف بال کا ٹ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ بس خیال اس بات کارکھنا ہے کہ ایک دوسرے کی طرف نگا ہ نہیں رکھنی ہے۔

Leave a Comment