کیاعورت کے لیےغسل میں کان اور ناک کے سوارخ میں پانی پہنچانالازمی ہے

حیض یا جنابت کے غسل میں کانوں میں موجود بالیوں کو ہلادینا ہی کافی ہے یا پھر سوراخ میں سے پانی گزارنا فرض ہے؟اور اگر کافی عرصے سے کانوں میں کچھ نہ ڈالا ہو پر سوراخ بند نہ ہوں تو کیا اس صورت میں بھی غسل کرتے وقت کانوں میں کچھ ڈال کر پانی گزارنا ضروری ہوگا؟نیز اگر کچھ نہ ڈالا ہو کانوں میں اور ویسے ہی بندہ غسل کرلے تو کیا غسل اور نماز دوبارہ سے لوٹانے ہوں گے؟

کانوں میں موجود بالیاں تنگ ہوں اور ان کو ہلائے بغیر پانی سوراخ میں نہ پہنچتا ہو تو ہلالینا واجب ہے لیکن اتنی ڈھیلی ہوں کہ بغیر ہلائے بھی پانی پہنچ جاتا ہو تو ہلانا واجب نہیں، بہتر ہے اور اگر کان میں کوئی چیز پہنی ہوئی نہ ہو اور سوراخ بھی بند نہ ہوا ہو تو اس صورت میں بھی پانی پہنچایا جائےلیکن پانی پہنچانے کے لیے کوئی تنکا یا لکڑی وغیرہ ڈالنے کی ضرورت نہیں بلکہ پانی پہنچنے کا غالب گمان کافی ہے۔

لیکن اگر خدانخواستہ اس میں غفلت ہوگئی ہے اور یقین ہے کہ پانی نہیں پہنچایا اور بعد میں یاد آئے تو صرف وہ فرض ادا کرلینا کافی ہے،دوبارہ غسل کرنا ضروری نہیں،البتہ جو نماز غسل کا فرض ادا کرنے سے پہلے پڑھی گئی ہو اس کا لوٹانا ضروری ہے۔

کما قال فی الکبیری ص٤٦ تحت قول المنیة:”امراة اغتسلت ھل تتکلف فی ایصال الماء الی ثقب القرط ام لاقال تتکلف فیہ کما تتکلف فی تحریک الخاتم ان کان ضیقا والمعتبر فیہ غلبة الظن بالوصول،ان غلب علی ظنھا ان الماء لا یدخل الا بتکلف تتکلف وان غلب انہ وصلہ لا تتکلف سوا کان القرط فیہ ام لا وان انضم الثقب بعد نزع القرط وصار بحال ان امر علیہ الماء یدخلہ وان غفل فلابد من امرارہ ولا تتکلف بغیر الامرار من ادخال عود ونحوہ فان الحرج مدفوع وانما وضع المسئلة فی المراة باعتبار الغالب والا فلا فرق بین الرجلیہ ہر دوسری بیوی کا مسئلہ ہے، کسی ایک کا نہیں۔

اور بیوی کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے، اس کو اچھے سے سمجھ لیں۔ اس کا اصل مسئلہ کچھ اور ہوتا ہے، باقی سامنے کے مسائل یہی ہوتے ہیں کہ بال دھونے مشکل لگتے ہیں، ٹھنڈ میں غسل نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ بھی مسائل ہیں لیکن یہ ضمنی مسائل ہوتے ہیں، اس کے پیچھے اصل مسائل کچھ اور ہوتے ہیں

اور وہ رویوں کے مسائل ہیں۔ اور اگر مسئلے کو حل کرنا ہے تو پہلے بیوی کے اصل مسائل کو ایڈریس کریں جو ہو سکتا ہے کہ شادی کے شروع میں تو شاید خود بھی اس کے لیے واضح نہ ہوں لیکن شادی کے دس بارہ سال بعد تو واضح ہو ہی جاتے ہیں۔