کیا محبت میں زنا جائز ہے ایک صحابی نے نبی اکرمﷺ سے کہا مجھے زنا کی اجازت دیں

دین اسلام وہ دین ہے جس میں رشتہ ناطہ اور باہمی تعلقات کی بنیاد پاکیزگی اور شفافیت پر قائم ہے ۔ یہی وجہ ہے اس دین نے اپنے ماننے والوں کو سب سے بڑھ کر ان رشتوں سے محبت کرنے اور ان کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے جن سے مل کر ایک بہترین گھر خاندان اور معاشرہ قائم ہوتا ہے ۔

شوہر اور بیوی کا رشتہ ماں اور بیٹے کا رشتہ بہن او ربھائی کا رشتہ دادا اور پوتی کا رشتہ چچا اور بھتیجی کا رشتہ ماموں اور بھانگی کا رشتہ وغیہ یہ عظیم رشتے ہیں جنہیں اسلام مردو عورت کے محرم رشتوں سے تعبید کیا جاتا ہے ۔ جن کی بنیاد جائز اور شفاف پاکیز ہ محبت پر قائم ہے ۔ اسی طرح غیر محرم مردو عورت ایک دوسرے کے ساتھ اکیلا پن یعنی علیحدگی اختیار نہیں کرسکتے ایک دوسرے کو چھوڑ نہیں سکتے ۔ مردو وعورت کے مابین جو بیماریاں جنم لیتی ہیں

چند وجوہات یہ ہیں بے پردی اختیار کرنا غیر محرم کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا عورت کا غیر محرم مردوں سے نرم رویہ اختیا رکرنا دونوں کا ایک دوسرے کو خود کی طرف مائل کرنے کیلئے مختلف اسباب تیار کرنا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آپﷺ کی ازواج مطہرات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ۔

اے ازواج مطہرات تم معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیز گار رہنا چاہتی ہو تو مردوں حسب ضرورت بات کرنے میں نرم لہجہ اختیار نہ کرنا جس کے دل میں نفاق کی بیماری ہے کہیں وہ لالچ کرنے لگے اور ہمیشہ شق ولچق سے محفوظ بات کرنا ۔غیر محرم کا آپس میں بغیر کسی صورت کے بات چیت کرنا ہر صورت میں حرام ہے ۔

چاہے کوئی بھی صورت چیٹ یا میسج کے ذریعے ہو یا آمنے سامنے ہو یہ جائز نہیں بلکہ حرام ہے ۔اسلام نے ہر اس چیز کو حرام قرار دیا جو حرام کی طرف لے جانے والی ہو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ زنانہ کرو بلکہ یوں فرمایا زنا کے قریب نہ جاؤ۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ زنا کے قریب نہ جاؤ بے شک بہت بُری راہ ہے ۔ہر وہ چیز جو انسان کی شہوت کو زیادہ کرنے کا سبب بنے وہ زنا کا راستہ ہے ۔

ضرورت کے بغیر عورت کا اکیلے گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تنہائی کوئی شخص کسی عورت کے پاس نہ جائے یہاں تک کہ اس کے محرم اس کے پاس ہوں ۔ ایک مرتبہ ایک نوجوان آپﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول ﷺ مجھے زنا کرنے کی اجازت دیجئے ۔لوگ اس کی طرف متوجہ ہوکر اسے ڈانٹنے لگے اور پیچھے ہٹانے لگے

لیکن آپﷺ نے فرمایا میرے قریب آجاؤ وہ نبی اکرمﷺ کے قریب بیٹھا توآپﷺ نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے اس نے کہا اللہ کی قسم بلکل بھی نہیں ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور لوگ بھی اسے اپنی ماں کیلئے پسند نہیں کرتے ۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے تو آپﷺ نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کیلئے پسند نہیں کرتے ۔

پھر آپﷺ نے فرمایا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے تو اس نے اللہ کی قسم کبھی بھی نہیں تو آپﷺ نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بہن کیلئے پسند نہیں کرتے ۔ کیاتم اپنی پھوپھی کے حق میں اسے پسند کروگے اس نوجوان نے کہا کبھی نہیں توآپﷺ نے فرمایا لوگ بھی اپنی پھوپھی کے حق بلکل پسند نہیں کرتے ۔

نبی کریم ﷺ نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا اور دعا کی اے اللہ اس کے گناہ معاف فرما اور اس کے دل کو پاک فرما او ر اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما روای کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا ۔