حضرت کعب بن زہیر مزنی اور آقا ﷺ کی چادر مبارک

جب انسان کو اپنے محبوب سے محبت ہوجاتی ہے تو اس کی سبھی چیزوں سے بھی محبت ہوجاتی ہے۔ بلکہ اس کوکسی بھی قیمت پر بیچنے کےلیے وہ تیار نہیں ہوتا اور اگر محبوب فخر کائنات ، سردارالانبیاءہو، تاجدار مدینہ عرب وعجم ہوآقادوعالم ﷺہوتو اس عظیم ہستی کی چھوڑی ہوئی یا استعمال شدہ چادر وغیرہ فروخت کرنے کا کوئی عاشق کیسے تصور کرے گا

اس کی تو یہ خواہش ہوگی کہ یہ چیز میری موت کے وقت قبر میں بھی میرے ساتھ ہوکہ اس کی برکت سے مجھے قبر میں بھی فائد ہ ملے گا۔ایسی ہی ایک چادر (بردہ مبارک) کے بارے میں حضرت امام جلال الدین ؒ نے اپنی کتاب مہر العلماء مترجم تاریخ الخلفاء ص 74 میں تحریر کرتے ہیں

اور اس کو محمد ضیاء اللہ خاں نیازی نے اپنی کتاب رحمت للعالمین ﷺ کے ص 177 میں بھی تحریر کیا ہے ۔حضرت کعب بن زہیر مزنی کے پاس حضرت محمدﷺ کی چادر تھی جس کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بارہ ہزار درہم کے عوض خریدنا چاہا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک طرف اپنی شدید ضرورتوں کی تصویریں تھیں تو دوسری طرف ایک ایسی برکت والی چادر جو دونوں جہانوں کےمحبوب کی دی ہوئی تھی۔

اب عقل کہہ رہی ہے کہ یہ چادر فروخت کر دے بارہ ہزار درہم بہت بڑی رقم ہے اور عشق کہہ رہی ہے اے کعب رضی اللہ عنہ یہ سرور مدینہ کی نسبت والی چادر اگر تیرے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر کبھی خوشبو ئے مدینہ والی چادر تجھے نصیب نہ ہوگی ۔

یہ نسبت والی چادر دونوں جہانوں کے خزانوں سے بہتر اور عظیم تر ہے۔ بارہ ہزار درہم ٹھکر ا دے اور چادر رسول اکرم ﷺ کو اپنے دامن میں سمیٹ لے ۔ چنانچہ عشق کی پکار کو سنتے ہوئے حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے چادر نبی کریم ﷺ کی بارہ ہزار درہم میں فروخت کرنے سے صاف انکار کردیا

یہ چادر اب بھی کمرہ نمبر 12 توپ کاپی استنبول (ترکی)سلطان محمد قاسم کے بنائے گئے محل میں ایک طلائی صندوق میں محفوظ ہے۔ میری دعا ہے کہ ہر عاشق رسول ﷺ کو تبرکات رسول اور اس کی چادر مبارک کو دیکھنے کی اللہ تعالیٰ توفیق عطافرمائے ۔ آمین!

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اس روئے زمین پر اگر کسی کی ذات اکمل،احسن واتم ہے تو آقائے کریم کی ذات ہے ۔ جو مادرذات سے ہی سب سے ممتاز اور بے نظیر ہوں ان کے بچپن اور شباب کا عالم کیا ہوگا ۔

اللہ نے جنہیں ساری مخلوق کی خلقت کاباعث بنانے کے ساتھ ساتھ ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر کا مصداق بنایا، ان کا عالم شباب ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے ۔ جس کی تصدیق خود قرآن کریم نے لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ سے کی ہے ۔