ایک صحابی کا پیارے نبیﷺ سے ک۔وڑے لینے کا بدلہ اور پھر نبیﷺ نے اُس صحابی کو جنتی کیوں کہا

ابن حبان کی روایت کسی نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ آپﷺ آپ احباب کو کتنے محبوب تھے حضرت علی ؓ نے فرمایا خدا کی قسم حضورﷺ ہمیں اپنی جانوں سے مالوں سے اولاد سے اور سخت پیاس کی حالت میں ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب تھے ۔صحابہ کرام ؓ آپﷺ بہت زیادہ محبت کرنے والے تھے ۔عقاشہ ؓ ایک صحابی ہیں انہوں نے نبی ﷺ کے مہرنبوت کو بوسہ دینے کیلئے انہوں نے کیا فعل اختیار کیا بتاتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کی وفات کا وقت جب آیا اس وقت آپﷺ کو شدید بخار تھا ۔ آپﷺ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ مدینہ میں اعلان کردو کہ جس کسی کا حق مجھ پر ہو وہ مسجد نبوی میں آکر میرا حق لے لے ۔مدینے کے لوگوں نے یہ اعلان سنا تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور مدینے میں کہرام مچ گیا ۔ سارے لوگ مسجد نبوی میں جمع ہوگئے ۔

صحابہ کرام ؓ کی آنکھوں میں آنسوتھے دل بے چین اور بے قرار تھے پھرنبیﷺ تشریف لائے آپﷺ کو اتنا بخار تھا کہ آپکا چہرہ مبارک سرخ ہورہا تھا نبی کریمﷺ نے فرمایا اے میرے ساتھیو تمہارا کوئی حق مجھ پر باقی ہو مجھ سے آج ہی لے لو میں نہیں چاہتا کہ میں اپنے رب سے قیامت میں اس حال میں ملوں کسی شخص کا حق مجھ پر ہو ۔

یہ سن کر صحابہ کرام کا دل دھڑک اُٹھا مسجد نبوی میں آنسوؤں کا سیلاب تھا صحابہ رو رہے تھے۔ لیکن تمام زبانیں خاموش تھے۔ کہ آقاﷺ ہمیں چھوڑ کر جارہے ہیں ۔ اپنے صحابہ کی یہ حالت دیکھ کر فرمایا اے لوگو ہر جاندار کو م۔وت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔

میں جس مقصد کیلئے اس دنیا میں آیا وہ مقصد حل ہوگیا ہے ۔ہم لوگ کل قی۔امت میں ملیں گے ۔ایک صحابی کھڑے ہوئے روایتوں میں ان کا نام عکاشہ آتا ہے عرض کیا یارسول اللہﷺ میرا حق آپ پر باقی ہے۔ آپ جب ج۔نگ اُحد کیلئے تشریف لے جارہے تھے تو آپ کا ک۔وڑا میری پیٹھ پر لگ گیا تھا۔

میں اس کا بدلا لینا چاہتا ہے یہ سن کر حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور کہا کیا تم نبی کریمﷺ سے ب۔دلا لوگے کیا تم دیکھتے نہیں کہ آپﷺ بیمار ہیں۔ اگر ب۔دلا لینا ہی چاہتے ہو تو مجھے ک۔وڑا م۔ار لو لیکن نبی کریمﷺ سے ب۔دلا نہ لو یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا اے عمر اسے بدلا لینے دو یہ اسکا حق ہے۔ اگر میں نے اسکا حق ادا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیا منہ دکھاؤں گا اس لیے مجھے اس کا حق ادا کرنے دو

آپ نے ک۔وڑا منگایا اور عقاشہ ؓ کو دیا اور کہا کہ مجھے ک۔وڑا م۔ار کر اپنا بدلہ لے لو ہر صحابہ کرام ؓ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ اور بے تہاشہ رو رہے تھے حضرت عقاشہ ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول میری نن۔گ۔ی پی۔ٹھ پر آپ کا ک۔وڑا لگا تھا یہ سن کر نبی کریمﷺ نے اپنا کرتا مبارک اتار دیا اور کہا لو تم میری پی۔ٹھ پر ک۔وڑا م۔اردو عقاشہ ؓ نے جب اللہ کے رسول ﷺ کی پیٹھ مبارک کو دیکھا تو کوڑا چھوڑ کر جلدی سے آپﷺ کی پ۔یٹھ مبارک کو چ۔وم لیا بوس۔ہ دیا

اور کہا یا رسول اللہﷺمیرے ماں باپ آپ پر قربان میری کیا مجال کہ میں آپ کو ک۔وڑا م۔اروں میں تو یہ چاہتا تھا کہ آپﷺ کی مبارک پیٹھ پر لگی مہر نبوت کو چ۔وم کر ج۔نت حاصل کرلوں یہ سن کر آپﷺ مسکرائے اور فرمایا کہ تم نے ج۔نت واجب کرلی ۔