حضرت ایوب ؑ کا وظیفہ سب سے اعلیٰ طاقتور

حضرت ایوب علیہ السلام رومی النسل تھے اور انکا نسب نامہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور اس ابراہیم کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون ہیں۔ آپؑ ان انبیاۓ کرامؑ میں شامل ہیں جنکا نام لے کر ان پر وحی نازل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے

اللہ پاک کا ارشاد ہے: اے محمد! ہم نے آپکی طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جسطرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی اور ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولادِ یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب کیطرف وحی بھیجی۔آپؑ ایک صابر و شاکر نبی تھے جنہوں نے لمبی مدت تک بیماری، آل اولاد کی ہلاکت اور مال و متاع کے چھن جانے پر صبر کیا، اور دوبارہ انعاماتِ ربانی حاصل ہونے پر شکر گزاری کی۔

حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس ہر قسم کا مال موجود تھا، مثلا غلام، اور مال مویشی ۔ اور شام کے علاقے میں وسیع اراضی کے قطعات بھی تھے اسکے علاوہ بیویاں اور بہت سے بچے بھی تھے آپؑ سے یہ سب کچھ چھن گیا اور آپکو سخت آزمائش سے دوچار کر دیا گیا آپ نے اس پر بھی اللہ پاک کی رضا کے لئے صبر کیا اور دن رات، صبح شام اللہ کا ذکر کرتے رہے۔

آزمائش کی مدت طویل ہوتی گئی، حتیٰ کہ دوست یار ساتھ چھوڑ گئے اور آپؑ سے دور دور رہنے لگے۔ آپ سے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔ اس وقت آپکی خدمت کرنے کے لئے صرف آپکی زوجہ محترمہ باقی رہ گئیں۔ انہوں نے آپکے گزشتہ احسانات اور شفقت کو فراموش نہ کیا، اور انکی خدمت میں حاضر ہو کر انکی ضروریات پوری فرماتیں یہاں تک کہ قضاۓ حاجت میں بھی مدد دیتیں۔

آہستہ آہستہ انکا مال ختم ہو گیا اور آپؑ کی غذا اور دوا کا بندوبست کرنے کے لئے اجرت پر دوسروں کے کام کرنے لگیں انہوں نے مال اور اولاد کی دوری پر بھی صبر کیا اور خاوند پر آنیوالی مصیبت میں بڑے صبر سے کام لیا۔ ایک زمانے میں وہ نعمتوں سے مالا مال تھیں اور انکا احترام کیا جاتا تھا پھر تنگدستی آئی اور انہیں لوگوں کی خدمت کرنا پڑی۔

اسکے باوجود وہ ثابت قدم رہیں۔حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش جس قدر شدید ہوتی گئی، آپ کے صبر، شکر اور استقامت میں اسی قدر اضافہ ہوتا گیا حتیٰ کہ آپکا صبر ضرب المثل بن گیا اور آپکے مصائب بھی۔سدی رحمتہ اللہ علیہ تفسیر ابنِ کثیر میں سورۃ الانبیاء آیت ۸۴ کی تفسیر بیان کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم سے گوشت جھڑ گیا تھا صرف ہڈیاں اور پٹھے باقی رہ گئے تھے آپکی زوجہ محترمہ راکھ لا کر آپکے نیچے ڈالتی تھیں

جب ایک طویل عرصہ اسی حال میں گزر گیا تو انہوں نے عرض کیا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ آپکی مصیبت دور کرے آپؑ نے فرمایا ، میں نے ستر سال صحت کی حالت میں گزارے ہیں، تو کیا مجھے اللہ کے لئے ستر سال صبر نہیں کرنا چاہئیے؟ بہر حال دن گزرتے رہے اور انکی خدمت گزار اور وفا شعار بیوی کے لئے بھی حالات کٹھن سے کٹھن تر ہوتے جا رہے تھے

اور خود حضرت ایوب علیہ السلام کے خویش و اقارب بھی انکی سخت آزمائش اور بیماری وغیرہ و دیکھ کر ان سے سخت بیگانگی برتنے لگے جو حضرت ایوب علیہ السلام پر بہت تکلیف دہ گزری، بالآخروہ بارگاہِ الٰہی میں خوب گڑگڑاۓ اور صحت و شفا کی دعا کی۔ ارشادِ ربانی ہے: اور ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

تو ہم نے انکی دعا قبول کر لی اور جو انکو تکلیف تھی وہ دور کر دی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرماۓ اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور بخشے اور عبادت کرنے والوں کے لئے یہ نصیحت ہے۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے: اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اے اللہ! شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے۔

ہم نے کہا کہ زمین پر لات مارو دیکھو ، یہ چشمہ نکل آیا نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو شیریں ، اور ہم نے ان کو اہل وعیال اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بخشے، یہ ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی۔ اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو، پھر اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔ بے شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا۔ وہ بہت خوب بندہ تھا، بیشک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور چشمہ صافی سے غسل کرنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو جنت کا لباس پہنا دیا اور اپؑ صحتمند ہو کر جنتی لباس پہن کر ایک طرف بیٹھ گئے۔ آپ کی زوجہ محترمہ آئیں تو پہچان نہ سکیں ، بولیں: اللہ کے بندے! یہاں جو بیمار تھا، وہ کہاں گیا؟ کہیں اسے بھیڑیے تو اٹھا کر نہیں لے گئے؟

انہوں نے اس طرح کی کئی باتیں کیں تو آپؑ نے فرمایا: تیرا بھلا ہو! میں ہی ایوب ہوں۔ انہوں نے کہا، مجھ سے کیوں ٹھٹھا کرتا ہے؟ آپؑ نے فرمایا: تیرا بھلا ہو! میں ہی ایوب ہوں۔

اللہ نے مجھےمیرا صحیح جسم دوبارہ دے دیا ہے۔ اللہ پاک نے آپکی طرف وحی نازل فرمائی کہ میں نے تجھے تیرے اہل ور مال دوبارہ دے دئیے ہیں اور ساتھ اتنے ہی اور دے دئیے ہیں اور ساتھ اتنے ہی دے دئیے ہیں اب اس پانی سے غسل کر لے، تجھے شفا ہو جاۓ گی اور اپنے ساتھیوں کیطرف سے قربانی پیش کراور انکی مغفرت کی دعا کر کیونکہ انہوں نے تیرے معاملے میں میری نافرمانی کی ہے۔

حضرت ایوب علیہ السلام غسل فرما رہے تھے کہ سونے کی ٹدیوں کا ایک جھنڈ آپ پر آ گرا۔ اور وہ مٹھیاں بھر بھر کر کپڑے میں ڈالنے لگے۔ اللہ عزوجل نے آواز دی: ایوب! کیا میں نے تجھے اس سے مستغنی نہیں کر دیا جو تو دیکھ رہا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! یا رب! لیکن میں تیری برکت سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔

حضرت ایوب علیہ السلام نے کسی بات سے ناراض ہو کر دعا فرمائی تھی کہ جب وہ صحیح ہوۓ تو اپنی بیوی کو سو کوڑے ماریں گے۔ اللہ پاک نے فرمایا کہ وہ کوڑے نہ ماریں مگر اپنی قسم پوری کری اور ایک سو شاخوں والی ٹہنی لیکر مارنے سے قسم پوری ہو جاۓ گی۔یہ ایک خصوصی رعایت تھی اس بندے کے لئے جو تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی پر پختہ رہا اور اس خاتون کے لئے بھی جو اللہ کی رضا کے لیے نیکی کی راہ پر صبر و استقامت سے قائم رہ کر تمام دکھ جھیلتی رہیں۔

اللہ ان سے راضی ہو۔روایت ہے کہ اللہ پاک قیامت کے دن دولتمندوں پر حضرت سلیمانؑ علیہ السلام کے ذریعے سے، غلاموں پر حضرت یوسفؑ علیہ السلام کے اور مصیبت زدوں پر حضرت ایوب علیہ السلام کے ذریعے سے اتمام حجت فرماۓ گا۔حضرت ایوب علیہ السلام کی وفات کے وقت آپ نے اپنے بیٹے حومل کو اور ان کے بعد اپنے دوسرے بیٹے بشر بن ایوب کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

بہت سے لوگ اسی کو ذوالکفل سمجھتے ہیں جسے بعض حضرات نے نبی قرار دیا۔بہر حال علماء کرام نے سورہ انبیاء کی آیت نمبر 83 کے اس حصے کو ہر مصیبت و پریشانی کاعلاج قرار دیا ہے جس کو حضرت ایوب ؑ السلام نے اللہ سے عرض کیا۔رب انی مسنی الضر وانت ارحم الراحمین۔اس کا زیادہ سے زیادہ ورد کیجئے انشاء اللہ قرض سے نجات ہوگی ۔رزق میں برکت ہوگی۔بیماریوں سے شفاء ہوگی۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین