پیار سب سے زیادہ مرد کرتا ہے یا عورت؟

امام علی ؓ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور دست ادب کو جوڑ کر عرض کرنے لگا یا علی اللہ نے مرد اور عورت میں فرق رکھا لیکن کیا ان دونوں کے وجود میں جو پیار ابھرتا ہے کیا ان کے پیار میں بھی فرق ہے بس یہ کہنا تھا تو امام علی ؓ نےفرمایا اے شخص یادرکھنا انسان ایک تلاش کے ساتھ بڑاہوتا ہے جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا جاتا ہے اور وہی تلاش انسان کو کبھی اس کی منزل دیتی ہے تو کبھی وہ خودی کو پاتا ہے تو کبھی خود کے خالق کو

لیکن بعض مرتبہ وہ انسان کی تلاش کسی بشر پر رک جاتی ہے اور اسی تلاش کے رکنے کو کچھ لوگ پیار کہتے ہیں اے شخص یاد رکھنا مرد کے پیار اور عورت کے پیار میں اللہ نے فرق رکھا تو وہ کہنے لگا یا علی کیسا فرق؟بات جب یہاں تک پہنچی تو امام علی ؓ نے فرمایا عورت اپنے پیار میں اپنا محافظ تلاش کرتی ہے جو اس کی حفاظت کرے۔

جس کے ساتھ وہ رہ کر محفوظ رہے اور مرد اپنے پیار میں اپنی نسل تلاش کرتا ہے عورت کاوجود اللہ نے آئینہ کی مثل رکھا وہ جس مرد میں شجاعت بہادری سخاوت علم دیکھے گی تو یہ محسوس کرے گی کہ یہی میری حفاظت کر پائے گا اور یہی سوچ عورت کی تلاش کو روکتی ہے اور اس کے وجود میں پیار پیدا کرتی ہے

جب تک عورت کے وجود میں یہ سوچ قائم ہے کہ میں اپنے مرد کے ساتھ محفوظ ہوں وہ کبھی بھٹک نہیں سکتی اور مرد خوبصورتی کو اداؤں کو پسند تو کرتا ہے لیکن اس سے پیار نہیں کرتا اے شخص یا د رکھنا اس زمین پر عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جب عورتیں اپنے آپ کو خوبصورت بنانے میں اتنی مگن ہوجائیں گی کہ وہ حیا ادب اور شرم کے لباس کو اتار دیں گی مرد ان سے جھوٹی محبت کے دعوے تو کریں گے۔

لیکن حقیقت میں وہ ان سے پیار نہیں کریں گے اور وہ بار بار روئیں گی کہ ہماری اتنی صداقت سچائی اور خوبصورتی کے بدلے ہمیں وہ پیار کیوں نہیں مل رہا اصل میں وہ اس بات کو بھول بیٹھی ہیں کہ مرد شرم حیا اور سیرت سے پیار کرتا ہے کیونکہ وہ عورت کے وجود میں اپنی نسل دیکھتا ہے اپنی بیٹی دیکھتا ہے اپنی اولاد دیکھتا ہے کہ آنے والے وقت میں میری اولاد ایسی ہوگی

اے شخص یاد رکھنا خوبصورتی اور ادائیں مرد کو عورت کے قریب تو کر سکتی ہیں لیکن عورت سے مستقل پیار کرنے پر قائم نہیں رکھ سکتیں۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین