حکماء ، ڈاکٹر اور تاجر حضرات کے لیے انمول تحفہ

حکماء، ڈاکٹر ، وکلاء، دکاندار اور تاجر حضرات کےلیے انمول تحفہ”سورت الرحمن” خوب اچھی طرح یا د کرلیں اور روزانہ صبح جب سورج نکلے اور ایک نیزہ بلند ہوجائے تو سورج کی طرف منہ کرکے “سورت الرحمن” پڑھنا شروع کریں۔ جب آیت “فَبِاَیِّ الَاءِرَبِّکُمَا تُکَذِّبَان” پر آئیں تو دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی سے سورج کی طرف ایک اشارہ کردیں۔

اسی طرح ہر مرتبہ کرکے “سورت الرحمن” پڑھنا شروع کریں۔ جب آیت “فَبِاَیِّ الَاءِرَبِّکُمَا تُکَذِّبَان” پر انگلی سے اشارہ کردیا کریں یہاں تک کہ سورت ختم ہوجائے۔ یہ عمل چالیس دن تک کریں بعد ختم چلہ روزانہ ایک مرتبہ “سورت الرحمن” پڑھتے رہیں۔

یہ عمل روزانہ پانچ منٹ کا ہے ایک ہفتہ بعد آمد مخلوق شروع ہوجاتی ہے لیکن یہ زکوٰۃ ہے آپ التفات نہ کریں او رآنے والوں کو کمال اخلاق سے بٹھایا کریں اور خوش مزاجی سے پیش آئیں۔ایک چلہ میں عام مخلوق کی آمد، دوسرے چلہ میں خاص لوگوں کی آمد ، تیسرے چلہ میں رئیسوں کی آمد، چوتھے چلہ میں رات دن مخلوق کا ہجوم لگا رہتا ہے۔ اگر تجارتی کاروبار ہے سب خریداری گے۔ اور ہر شخص دکان کی طرف خود بخود کھینچ کرآئے گا۔

عجیب وغریب صفات کا عمل ہے۔اگر کسی حاکم یا افسر کے پاس جانا ہے تو ایک بار “سورت الرحمن” پڑھ کر جائیں اگر زیادہ وقت نہ ہوتو تین بار “فَبِاَ یِّ الَا ءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان” پڑھ لیا کریں پھر سلام کریں افسرکمال خوش اخلاقی سے پیش آئے گا۔

انشاءاللہ۔خسرہ یا چیچک کی وباء پھیل رہی ہوتو اس سے حفاظت کےلیے لوگ پر “سورت الرحمن” تین بار باوضو پڑھیں اور دم کریں ان لونگوں میں سے تین یا بار پانچ یا سات لونگ لے کر پانی سے نگل لیں ۔ انشاءاللہ حفاظت رہے گی۔دیرینہ اور شدید مریض کو صبح وشام “سورت الرحمن” سنائی جائے تو وہ بہت جلد روبصحت ہوجائے گا۔

وہ خیال جهٹک کرپھر سے نیت باندھنے والی تھی اسے اپنے پیچھے اذلان کی آواز سنائی دی ۔۔ہیر ۔۔۔وہ حیران سی فورا پیچھے مڑی تو ازلان دروازے میں کھڑا تھا ۔۔”آپ مسجد نماز پڑھنے نہیں گئے؟””نہیں میں گیا ہی تھا واپس آگیا .”وہ اسکی طرف قدم بڑھاتے بولا تھا جسکا چہرہ تر تھا اب بھی وضو کے پانی سے”مگر کیوں؟ وہ منہ کھولے کھڑی تھی ۔۔۔بتاتا ہوں نا ابھی ۔

اس نے آگے بڑھ کر اسکا کھلا منہ بند کیا ۔۔۔تم میری امامت میں نماز پڑھو گی آج ۔۔۔ پتا نہیں یہ حکم تھا درخواست تھی یا حق تھا ۔۔۔وہ کھلکھلا اٹھی تھی ۔۔۔وہ جائے نماز بچھا چکا تھا ۔۔۔ اور اسکی متاعِ حیات اسکے پہلو میں کھڑی تھی ۔۔۔ عجیب شخص تھا نا وہ جسکی محبت میں اب تک سلگتی رہی تھی اسی کے پہلو میں رب کے حضور کھڑی تھی ۔

وہ دونوں اب سر جھکائے سنتیں ادا کر رہے تھے جو سارے جہان سے بہتر ہیں ۔۔۔سلام پھیرا گیا تو وہ چپ تھی بلکل جیسے الفاظ گنگ تھے ۔۔۔وقت کے رکنے کی التجا اسکی نم آنکھوں نے بےساختہ کی تھی ۔۔۔”اب تم میری امامت میں نماز پڑھو گی.”وہ مسکرایا تھا ہیر سر جھکائے کھڑی تھی جیسے ابھی رو پڑے گی

۔۔۔کمرے میں سورت واضحی اور سورت الم نشرح کی تلاوت کی مدھم آواز دل پہ اثر کر رہی تھی ۔۔۔اور وہ اپنے من چاہے شوہر کی امامت میں فرض ادا کر رہی تھی پهر جب فرض بھی ادا کر لیے تو سلام پھیرا گیا تھا ۔۔۔