بھولنے کی بیماری کو کیسے ختم کریں؟دماغ کو تیز کرنے کا مجرب عمل جانیں۔

انسان کی ذہنی صحت اس کی سوچنے محسوس کرنے اور رد عمل ظاہر کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے دماغ اللہ تعالیٰ کی ایک بہترین تخلیق ہے اور انسان کے لئے انمول تحفہ خداوندی ہے انسان اپنے دماغ کو استعمال کر کے نت نئے اور حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ باقی اعضاء کی طرح اس کا بھی خیال رکھا جائے۔

دماغ کے کمزور ہونے کی کیا وجوہات ہیں اور دماغ کیسے تیز ہوتا ہے سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے اور اس کے علاوہ حضرت علی ؓ کا بتایا ہوا ایک ایسا عمل پیش کررہے ہیں جس سے انسان اپنے دماغ کو تیز کرسکتا ہے۔

سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ ہمارا دماغ ہمارے جسم کا وہ واحد حصہ ہے جسے جتنا زیادہ استعمال کیاجائے یہ اتنا ہی فعال ہوگا غیر فعال دماغ آہستہ آہستہ بوسیدگی کا شکارہوتا چلا جاتا ہے اور اسے مختلف امراض گھیر لیتے ہیں ماہرین کے مطابق اگر بڑھاپے میں بھی دماغ کا زیادہ استعمال کیاجائے تب بھی یہ کوئی زیادہ نقصان دہ بات نہیں بلکہ یہ آپ کو مختلف بیماریوں جیسے الزائمر وغیرہ سے بچانے میں مفید ثابت ہوگا ۔

دماغی صحت کے بغیر ایک مکمل صحت مند زندگی کا تصور ممکن نہیں انسانی جسم میں دماغ کی حیثیت ایک کنٹرول روم کی ہوتی ہے اگر کنٹرول روم یعنی دماغ کی کارکردگی درست نہیں تو انسانی زندگی کا تمام نظام درہم برہم ہوجاتا ہے دماغ ہی انسان کے جسم کا وہ حصہ ہے جو سارے جسمانی نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ دماغی اور نفسیاتی بیماریاں اکثر اوقات جسمانی امراض کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں اب کہ جسم میں سب سے زیادہ پیچیدہ نوعیت کا عضو دماغ ہے جس میں موجود باریک جالے اور خون کی نازک رگیں آپ کے جسم کا نظام چلا رہی ہیں اگرچہ یہ آپ کے جسم کا ایک چھوٹا ساحصہ ہے لیکن اس کی اہمیت سے حرکت قلب اور نظام حرکت انکار نہیں کرسکتا

جسم کے تمام اعضاء اسی کے اشاروں پر چلتے ہیں یہ چھوٹا ساحصہ کسی طاقتور اور برق رفتار کمپیوٹر سے کم نہیں ہے جہاں ایک طرف ماضی حال اور مستقبل کی فکریں یادداشت کا حصہ ہیں اور دوسری طرف نظام جسم کو چلانے کی صلاحیتیں بھی موجود ہیں لیکن اگر انسان کا دماغ کمزور ہوجائے یا ٹھیک طرح سے کام نہ کرے تو سارا جسم اس سے متاثر ہوتا ہے اور جسم کے باقی اعضاء کو بھی نقصان ہوسکتا ہے۔

تخیلاتی تصورات کی کمی اگر آپ کا دماغ تخیلاتی پرواز سے محروم ہے یعنی آپ حقیقی زندگی کو پوری طرح اپنے اوپر حاوی کرچکے ہیں اور اپنے دماغ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔

کہ وہ تصوراتی اور غیر حقیقی چیزوں کے بارے میں سوچے تو جان لیجئے کہ آپ اپنے دماغ کو محدود کررہے ہیں کسی انسان کی قوت تکیل جتنی زیادہ بلند ہوگی اس کا دماغ اتنا ہی زیادہ فعال ہوگا۔کم بولنا ویسے تو ذہانت کی نشانی ہے لیکن ماہرین کے مطابق دانشورانہ فیصلوں میں حصہ لینا اپنے خیالات کا اظہار کرنا اور دوسروں کی رائے سننا بھی آپ کے دماغ کے سوئے ہوئے حصوں کو بیدارکرتا ہے اور دماغ کے سوچنے کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے

بیماری کے دوران دماغی کام کسی بھی جسمانی کے دوران زیادہ دماغی کام کرنا دماغی خلیات کو تباہ کرسکتا ہے بیماری کی حالت میں جسم اور دماغ دونوں کمزور ہوجاتے ہیں اور ایسے میں دماغ کو اس کی استعداد سے بڑھ کر کام پر مجبور کرنا اسے تباہ کرسکتا ہے۔

دماغ کو تیز بنانے کا وظیفہ یہ ہے :ہر نماز کے بعد 11 مرتبہ یا قوی کا ورد کیجئے اور اول و آکر درود شریف کا لازمی اہتمام کیجئے۔یادر ہے کہ درود شریف طاق اعداد میں پڑھا جائے۔انشاء اللہ دماغ بہت قوی ہوگا حافظہ اچھا ہوگا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین