فقروفاقہ سے بچنے کا کامیا ب نسخہ

بنی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو آدمی رات کو ایک بار سورت الواقعۃ کی تلاوت کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے فا قہ سے محفوظ رکھیں گے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ایمان ویقین کے قربان جائیں کہ آپ ﷺ کی زبان اطہر سے نکلے ہوئے اراشادات پر انہیں اتنا کامل اعتماد واعتقاد ہوتا تھا کہ تمام دنیا کو آپ ﷺ کے ایک ارشاد مبارک پر قربان کرنے کو تیار رہتے تھے۔

صحابہ کرام میں سے چند ایک حضرات کو نکال کر باقی اکثریت غربت کی زندگی گزار رہی تھی ۔ لیکن انہیں مال کمانے سے زیادہ دین سیکھنے اور پھیلانے کا شوق تھا۔مال کو وہ صرف ضرورت زندگی پوری کرنے کے لیے حاصل کرتے اور ضرورت سے زائد وہ مال کے لیے کبھی ہاتھ پاؤں نہ مارتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفاں رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور ایک لاکھ درہم پیش کئے۔ انہوں نے دراہم قبول کرنے سے انکار کردیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ میں تمہارے لیے نہیں بلکہ تمہاری بچیوں کے لیے دے رہا ہوں،

جن کا تمہارے بعد کمانے والا کوئی نہیں ہے ! جمعرات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرما یا مجھے ان بچیوں کے لیے بھی کسی مال کی ضرورت و محتاجی نہیں ہے۔ اس لیے کہ میں نے حضور اقدس ؑ سے سنا ہے کہ جو آدمی رات کو سورت الواقعۃ تلاوت کرے گا۔

اللہ تعالیٰ اسے فاقہ سے بچا دیں گے۔ میں نے اپنی بچیوں کو سورت الواقعہ حفظ کر ادی ہے۔ انہیں اس مال کی ضروت نہیں!کسی بھی قسم کی حاجت کےلیے ، بالخصوص مالی مسائل سے متعلق حاجت کے لیے عشاء کے بعد ایک نشست میں سورت الواقعۃ کا اکتالیس بار پڑھنا نہایت مجرب المجر ب ہے ۔

مالی معاملات میں کسی قسم کی حاجت کےلیے سورت الواقعۃ کا عصر کی نماز کے بعد چودہ بار پڑھنا بھی مجرب اور مشہور ہے۔