محفل میلاد اور بھنے ہوئے چنے

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالمِ انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کا فضل، رحمت اور اِحسانِ عظیم ہیں۔ اُمتِ مسلمہ پر واجب ہے کہ وہ اس نعمتِ عظمیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے کیوں کہ شکر اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے اور کسی عطا پر اس کا شکر بجا لانا سنتِ انبیاء ہے جیسا کہ احادیثِ صومِ عاشورہ سے واضح ہے۔

اِظہارِ تشکر کے کئی طریقے ہیں : انفرادی طور پر بندہ رب کریم کا شکر ادا کرنے کے لیے نفلی عبادات اور خ۔یرات و عطیات کو ذریعہ اظہار بناتا ہے مگر جو فضل و احسان امت پر اجتم۔اع۔ی سطح پر ہوا ہو اس کا اظہارِ تشکر بھی اج۔تماع۔ی طریقے سے کیا جاتا ہے۔

چوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت و بعثت پور ی کائناتِ انسانی پر اللہ تعالیٰ کا اح۔سانِ عظیم اور فضل عم۔یم ہے اس لیے اس نعمتِ عظمیٰ پر اﷲ عزوجل کا شکر اجت۔ماع۔ی طور پر ادا کرنا واجب ہے۔ اور جو عمل اج۔تماع۔ی نوعیت کا ہو اس کی ہیئت ترکیبی کی بنیاد معاشرتی تہذیب و ثقافت پر رکھی جاتی ہے۔

یومِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثقافتی طور پر عید کی طرح جوش و جذبے سے جشن کے انداز میں منایا جاتا ہے۔ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر جشن منانے کی تہذیبی تاریخ مختلف معاشروں کے طریقہ ہائے اظہارِ تش۔کر پر مبنی ہے

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت ( عید میلاد النبی ﷺ) کے روز مکرمہ گیا جس جگہ آپ ﷺ کی ولادت مبارک ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ وہاں پر لوگ آپ کی ذات اقدس پر درود پاک پڑھ رہے ہیں اور آپ کی ولادت کا ذکر کررہے ہیں آپﷺ کی ذات برکات سے جو معجزات ولادت کے وقت ظاہر ہوئے تھے۔

بیان کررہے ہیں کہ میں نے اس محفل میں انوار وتج۔لیات کی برکات دیکھیں پس میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ انوار وتجلیات ان ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس میں مؤک ل و مقر ر ہوتے ہیں۔ “وَ رَأَ یْتُ مُؤْ کلاً بِخَا لِطہٖ اَنْو ا رَ مَلَا ئِکَۃِ وَ اَ نْوارِ الرَّ حْمَۃِ””اور میں نے دیکھاکہ انوار ملائک۔ہ اور انوار رحمت آپس میں ملے ہوئے ہیں”۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد نے مجھے بتایا کہ میں میلاد کے دنوں حضور ﷺ کی ولادت کی خوشی میں کھانا پکواتا تھا ایک سال بھنے ہوئے چنے کے سواکچھ میسر نہ تھا تو میں نے وہی لوگوں میں تقسیم کر دیئے مجھے خ۔واب میں حضور اکرمﷺ نے زیارت سے نوازا”۔”فَرَ أَ یْتُہٗ بَیْنَ یَدَ یْہٖ ھٰذِ ہِ الْحَمْصَ مُتَبَھْجًا بِشَا شَا””

پس میں نے دیکھا کہ وہ بھنے ہوئے چنے آپ ﷺ کے رو برو پڑے ہیں اور آپ بہت ہی مسرور خوش ہیں”۔وہ لوگ خدا شاہد مقدر کے سکندر ہیں جو سر ور عالمﷺ کا میلاد مناتے ہیں