ان دو بول کی وجہ سے ہماری زندگی میں کتنی پریشانیاں آچکی ہیں؟

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور تمام مخلوقات میں انسان کو ممتاز بنایا ہے ۔ اللہ رب العالمین نے ہر جاندار کو زبان دی ہے لیکن بولنے کا اچھے الفاظ چننے استعمال کرنے اور شیریں زبان میں گفتگو کا شرف صرف انسانوں کو ہی دیا ہے بولنا تو انسان کی فطرت میں ہے لیکن بول ہمیشہ ایسے بولنے چاہئیں

جو کہ اللہ کی ناراضگی کا سبب نہ ہوں اس تحریر میں دو ایسے بولوں کے بارے بتایا جارہا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہیں اور ان کی وجہ سے آپ کی زندگی میں پریشانیاں آسکتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا جیسا کہ اللہ قرآن پاک میں فرماتا ہے۔

بے شک اللہ کو کوئی تکبر کرنے والا پسند نہیں اور کسی سے بات کرنے میں اپنا چہرہ کج نہ کرو یعنی گال نہ پھیلاؤ گردن نہ ٹہڑی کرو اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چلو بے شک اللہ کو تکبر کرنے والا پسند نہیں کسی بھی چیز پر تکبر کرنا درست نہیں ہے جیسے علم،حسن،خوش آوازی،حسب و نسب ،وعظ وغیرہ پر اکڑ نا یا اترانا یا پھر مال لشکر نوکر چاکر وغیرہ

یا ذاتی کمال یا اپنے کسی ہنر پر اترانا غرور ہے اے انسان یا د رکھو یہ سب چیزیں تیری اپنی نہیں ہیں رب کی جانب سے ہیں جب وہ چاہے لے لے اس لئے تکبر نہ کرو اور لوگوں کو حقیر نہ سمجھو جب لوگ تجھ سے ہم کلام ہوں تو ان سے منہ نہ پھیرو یا گال پھیلا کر یا گردن گھما کر بات نہ کرو ۔

سحر ایک بیماری ہے جو اونٹ کی گردن میں ہوتی ہے جس سے اس کی گردن مُڑ جاتی ہے یہاں پر بطور تکبر و غرور منہ پھیر لینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو لوگ عظمت اور بڑائی منہ بسورنے اور تیوری چڑھانے میں سمجھتے ہیں وہ تکبر و غرور سے بھرے ہوئے رہتے ہیں اور قرآن پاک میں اس کو ایک بیماری بتایا گیا ہے

جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہورہا ہے ۔یاد رہے تکبر و غرور گھمنڈ نہ کرنا ایمان کی علامت ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورہ سجدہ کی آیت نمبر پندرہ میں فرمایا جو لوگ تکبر نہیں کرتے ان کو قرآن کی باتیں سمجھ میں آتی ہیں یاد رہے کہ آسمان و زمین کا سب سے بڑ ا گناہ بھی تکبر ہی ہے جو کہ شیطان نے کیا اور ملعون ہوا ابلیس نسلی برتری میں مبتلا تھا

اسی احساس کی وجہ سے وہ قصد ا اپنے رب العزت کی نافرمانی کر بیٹھا اور ذلالت کے گڑھے میں گرتا چلا گیا اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے جب ابلیس نے حضرت آدم ؑ کو سجدہ نہیں کیا تو۔

اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف کی آیت نمبر 12 اور 13 میں اس طرح فرمایا تو سجدہ نہیں کرتا تجھے اس سے کس نے روکا کہ میں حکم دے چکا ہوں کہنے لگا میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے کہا تو یہاں سے نکل جا تجھ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تو تکبر کرے تو نکل جا بے شک تو ذلیلوں میں شمار ہونے لگا اس پھٹکار کے بعد بھی ابلیس نے نسلی تعصب ترک نہیں کیا تکبر کی گمراہیوں میں وہ اور اس کے چیلے پڑے ہوئے ہیں

مذہب اسلام اور سرورکائنات ﷺ بتائے ہوئے رستے پر چل کر اور عمل پیرا ہوکر ہی ہم تکبر سے بچ سکتے ہیں۔ایک بول وہ ہے جو تکبر کے لئے بولا جائے اور دوسرا وہ بول جو دوسرے کو جھوٹا دکھانے کے لئے بولا جائے یہ دونوں بول انسان کے لئے پریشانی لاتے ہیں اور مشکلات کا سبب بنتے ہیں ۔اللہ ہم سب کو ان برائیوں سے بچائے اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین