نوح علیہ السلام کی بیٹے کو وصیت اور تکبر کیا ہے؟

امام احمد نے عطاء بن یسارا اور حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہےکہ:”ہم نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، ایک دیہاتی شخص حاضر خدمت ہوا۔ اس نے دھاری دھار ریشمی کپڑا کڑھائی والا جبہ پہن رکھا تھا۔

نبی کریمﷺ نے فر ما یا : دیکھو! تمہارا یہ دوست ہر شہسوار ابن شہسوار کو ذلیل کر چکا ہے یا فرمایا ہر شہسوار ابن شہسوار کو ذلیل کرنا چا ہتا ہے اور چرواہے کے بیٹے کو عزت دینا چاہتا ہے۔”راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے اس کو دامن سے پکڑا اور فرمایا: “کیا میں تمہارے جسم پر بے وقوفوں کا لباس نہیں دیکھ رہا؟ ” پھر آپﷺ نے فرمایا:اللہ کے نبی نوح ؑ کی رحلت کا وقت آیا۔

تو آپ نے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی ، بیٹا ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں، میں دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو چیزوں سے روکتا ہوں۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں “لا الہ الا اللہ ” (کے ذکر) کا بےشک سات آسمان اور سات طبقات ارضی ٹوٹ کر بکھر جائیں تو بھی یہ کلمہ “لا الہ الا اللہ ” انہیں پھر سے جوڑسکتا ہے۔

دوسری چیز جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم “سبحان اللہ ” اور “الحمداللہ” کا ذکر کیا کرو۔ یہ وہ تسبیح ہے جو پوری کائنات کی زبان سے صبح و شام جاری وساری ہے۔ انہیں کلمات طیبات کے وسیلے سے مخلوق خدا کو رزق ملتا ہے ۔ اور میں تمہیں دو چیزوں سے منع کرتا ہوں:شرک اور تکبرراوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی ؛ یا رسول ﷺ شرک کا مفہوم تو ہم سمجھتے ہیں۔

لیکن تکبر کا مطلب کیا ہے ؟ کیا تکبر یہ کہ ہم میں سے کسی کے خو بصورت جوتے ہوں جس کے نیچے خوبصورت نعل لگے ہوں؟آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تکبر نہیں ہے۔

صحابہ کرام نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ کیا تکبر یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کے دوست ہوں اور وہ ان کی مجلس میں بیٹھے اور بات چیت کرے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تکبر اس چیز کو بھی نہیں کہتے ۔

صحابہ کر ام نے عرض کی: یا رسول اللہ ؐ ! بہترین سواری جس پر سواری کی جا تی ہے ۔ تکبر تو نہیں کہلاتی کہیں؟ نبی کریم ﷺ نے پھر نفی میں جواب دیا:صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہؐ! آپ خود ارشاد فرمائیں تکبر کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فر مایا: حق سے غفلت برتنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا تکبر ہے۔