عاشق مصطفیٰ کی وجہ سے فرشتوں کا کانٹے لگا لباس پہننا

ابن عسا کرنے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فر مایا: کہ میں حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہِ اقدس میں موجود تھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آپ ﷺ کے پاس تھے۔ انہوں نے ایک ایسی چادر پہنی ہوئی تھی۔ جس کوانہوں نے کانٹے لگا کر اپنے سینہ پر لٹکا رکھا تھا۔ تو جبرائیل علیہ السلام کانٹے لگے ہوئے جبہ پہنے ہوئے حاضر ہوئے۔

اور میں نے ان سے کہا کہ اے جبرائیل ! یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم فرما یا کہ وہ آسمان میں ایسا لبا س پہنیں جیسے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ زمین میں کانٹے لگے ہوئے لباس پہنے ہوئے ہیں۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کا نٹے نے مجھ پر اتنا تمام مال فتح سے پہلے خرچ کر ڈالا ہے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا بلاشبہ اللہ تعالیٰ انہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا تم اپنے فقر پر مجھ سے راضی ہو؟

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عر ض کی کہ راضی ہوں، راضی ہوں، راضی ہوں۔

جب معراج کی رات تاجدار مد ینہ نے اللہ سے ملاقات کی تو اللہ تعالیٰ نے تاجدار مدینہ کے سکون قلب کے لیے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی آواز سنائی(اللہ اکبر)حضور پاکﷺ نے ارشاد فر مایا جس نے کسی جنتی کو دیکھنا ہووہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔ اس کے مقام کا کیا اندازہ کر سکتے ہیں کہ آپ وہاں پر دفن ہیں

کہ حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ روزانہ 70 ہزار فرشتے طلوع آفتاب سے قبل آسمان سے اتر تے ہیں اور نبی کریم ﷺ کے روضہء انور کا طوائف کرتے ہیں۔

وہ اپنے بازؤں کو جنبش دے کر آپ ﷺ پر درود سلام پیش کرتے ہیں اور شام کے وقت آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔ اور پھر 70 ہزار فرشتے رات کو درودسلام کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔