تعظیم مصطفیٰ ﷺ میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مصلّی امامت ہٹ جانا

جہاں پر ادب مصطفی ٰ ﷺ ، عشق مصطفیٰ ﷺ ہے۔ وہاں پر تعظیم مصفطیٰ ﷺ لازمی ہے ادب مصطفیٰ کے بغیر عشق مصطفی ٰ ﷺ حاصل نہیں ہوسکتا۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا

مؤذن نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا آپ نماز پڑھا دیں گے آپ نے فرما یا ہاں بس فوراً امامت ہوگئی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھانے لگے اور نماز کی امامت فر مائی دوران نماز حضور ﷺ بھی تشریف لے آئے چنانچہ آپ ﷺ صفوں سے گزرتے ہوئے صف ِ اول میں جا کھڑے ہوگئے

لوگوں نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارے لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نماز میں کسی اور جانب متوجہ نہ ہوئے یعنی کامل محویت کا عالم ہوتا تھا اب تالیوں کی آواز یادہ ہوگئی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور پیچھے ہٹنے کا ارادہ کر لیا لیکن حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنی جگہ پر قائم رہو انہوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر خدا کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں امامت کا حکم دیا ہے

اس کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹے اور حضور ﷺ نے آگے بڑھ کر امامت نماز کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فر مایا جب میں نے حکم دیا تھا تم مصلے پر کیوں نہ ٹھہرے حضرت ابو بکر صدیق نے عرض کیا ابن ابی ابو قحافہ میں یہ جرأت نہیں کہ رسول ﷺ کے آگےکھڑے ہوکر نماز پڑھے ۔

اس کے بعد حضور ﷺ نے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فر ما یا اس کی کیا وجہ ہے کہ میں نے تمہیں (بکثرت) ہاتھ پر ہاتھ مارتے دیکھا اگر کسی کو نماز میں کوئی ضرورت پیش آئے تو بلند آواز میں سبحان اللہ کہنا چاہیے ۔

جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو اس کی طرف التفات کیا جائے گا امام اس کی طرف متوجہ ہوجائے گا اور نماز میں ہاتھ پر ہاتھ مارنا صرف عورتوں کےلیے مخصوص ہے۔

Leave a Comment