سرکار دو عالم ﷺ کے اسم ِ مبارک پر نام رکھنے کے فضائل وبرکات

سرکاردو عالم ﷺ کے نام پر نام رکھنے کی مندرجہ ذیل برکات و رحمتیں حاصل ہوتی ہیں۔حضرت علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں ۔حضور اکر م ﷺ کے خصائص میں سے ایک یہ بھی ہے ۔ کہ آپ کے اسم مبارک پر نام رکھنا مبارک اور دنیا و آخرت میں حفاظت ونجات کا باعث ہے

چنانچہ حافظ امام ابو نعیم حلیتہ الاولیاء میں حضرت نبیط بن شرط رضی اللہ عنہ ، سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا:”قَالَ اللہُ تَعالٰی وَ عِزَّ تیْ وَجَلَا لِیْ لَا اُعَذِّ بُ اَحَدًا سَمّٰی بِا سْمِکَ فِی النَّارِترجمہ: ” اللہ تعا لیٰ عزوجل نے فرمایا ! کہ مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم جس کا نام تمہارے نام پر ہوگا اسے دوزخ کا عذاب نہ دونگا”۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضور پر نو ر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز دو آدمی دربارِخداوندی میں پیش ہونگے حکم ہوگا کہ انہیں جنت میں لے جاؤ یہ سن کر انہیں تعجب ہوگا

اور حق تبارک وتعالیٰ سے وہ عرض کریں گے یا اللہ ہم نے تو کوئی نیک عمل نہیں کیا پھر بھی ہم کو جنت میں کیوں بھیجا جار ہا ہے۔ اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ہوگا تم جنت میں جاؤ میں نے قسم فرمارکھی ہے کہ جس شخص کا نام محمد یا احمد ہو گا اسے جہنم میں داخل نہیں کروں گا۔

حضرت امام یوسف بن اسماعیل نبہانی نے فر ماتے ہیں کہ سرکاردو عالم ﷺ نے فرما یا کرتے تھے کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ جس ایماندار کا نام محمد ہے۔ قیامت کے روز اسے لایا جائے گا اللہ عزوجل اس سے فر مائے گا کہ تجھے گناہ کرتے ہوئے شرم نہ آئی؟

حالانکہ تو نے میرے حبیب ﷺ کانام رکھا ہے۔ لیکن مجھے شرم آتی ہے کہ میں تجھے عذاب دوں جب کہ تونے میرے حبیب کا نام اختیار کیا۔ جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ۔

Leave a Comment