صرف ایک روٹی کا حساب کا حساب کتاب

امام علی ؓ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور دست ادب کو جوڑ کر عرض کرنے لگا یا علی جزا سزا اور حساب و کتاب کا دنیا و آخرت میں مرکز کیا ہے بس یہ کہنا تھا تو امام علی ؓ نے فرمایا اے شخص یا د رکھنا جزا سزا اور حساب کا مرکز ایک روٹی ہے تووہ کہنے لگا یا علی قیامت میں حساب کتاب کا مرکز ایک روٹی بات جب یہاں تک پہنچی

تو امام علی ؓ نے فرمایا اے شخص میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ جو روٹی کھاؤ گے اس کا حساب ہو گا کہ یہ کیسے حاصل کی اور جو روٹی کھلاؤ گے اس کی جزا ملے گی اس کا اجر ملے گا اس کا ثواب ملے گا اللہ نے برکت عزت شہرت اور فراوانی کو اس انسان کے لئے رکھ دیا ہے۔

جو انسان اللہ کی مخلوق کو اپنے حصے میں سے کھانا کھلائے اور جو سزا ملے گی اس کا مرکز یہ ہوگا کہ تو نے اللہ کی مخلوقات سے ان کا حق کیوں چھینا ان کےحصے کا رزق کیوں چھینا یاد رکھنا جو کھاؤ گے وہ حساب ہے جو چھینو گے وہ سز ا ہے اور جو کھلاؤ گے وہ جزاء ہے ۔

ابوجارود نے حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے نقل کیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: “إِنّمَا يُدَاقّ اللّهُ الْعِبَادَ فِي الْحِسَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ مَا آتَاهُمْ مِنَ الْعُقُولِ فِي الدّنْيَا”، “اللہ قیامت کے دن بندوں کے حساب میں باریک بینی اتنی کرے گا جتنی انہیں عقل دنیا میں دی ہے”۔

اس حدیث سے متعلق چند نکات:قیامت کے دن بندوں کا حساب و کتاب، باریک بینی سے کیا جائے گا۔ اس باریک بینی کا مقدار، انسان کی وہ عقل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا میں دی ہے۔

دنیا میں لوگوں کی عقلوں کی مقدار مختلف ہے، لہذا قیامت کے دن بھی بعض لوگوں کے حساب و کتاب میں زیادہ باریک بینی کی جائے گی اور بعض لوگوں کے حساب و کتاب میں کم باریک بینی کی جائے گی۔عقل سے اتنا ہی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جتنا اسے استعمال کیا جائے۔مادی نعمتوں کے الٹ، عقل کو جتنا زیادہ استعمال کیا جائے بڑھتی ہے،

جبکہ مادی نعمتیں استعمال کرنے سے کم ہوجاتی ہیں۔ انسان علم حاصل کرنے کے ذریعے اپنی عقل کے سرمایہ کو بڑھا سکتا ہے۔ جو شخص قرآن کریم اور احادیث کو حفظ کرتا ہے، وہ اپنی عقل سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

بعض ایسے حرام کام ہیں جو براہ راست عقل کو زائل کرتے ہیں، جیسے شراب خواری۔ شرابخوار سے آنا جانا بھی بند کردینا چاہیے، حتی کہا گیا ہے کہ شرابخوار کو رشتہ نہ دیں۔

Leave a Comment