انہی غلطیوں پر دعا قبول نہیں کی جاتی۔

دعا کا مفہوم ہے کہ اللہ کے سامنے اپنا احتیاج ظاہر کرنا اپنی بے بسی ظاہر کرنا اور اللہ کے سامنے گڑگڑانا اللہ کی بڑائی اور عظمت کا اقرار کرنا ظاہر بات ہے مانگا اس سے جاتا ہے جس سے امید وابستہ ہوتی ہے دنیا کا بھی مشاہدہ ہے کہ جو چھوٹا ہوتا ہے وہ بڑے سے مانگتا ہے چاہے عمر کے لحاظ سے چھوٹا ہو یا رتبے کے لحاظ سے چھوٹا

ہو وہ اپنے سے بڑے کا محتاج ہوتا ہے اور جب اپنے سے بڑے رتبے کے پاس کوئی جاتا ہے تو اسے بہتر طور سے پتہ ہوتا ہے کہ اس نے کیسے مانگنا ہے اور اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار کیسے کرنا ہے تا کہ اس کی بات سن لی جائے یا اس کی بات مان لی جائے۔

اب ہمیں خود ہی سوچنا چاہئے کہ اس بادشاہ کے سامنے جب ہم اپنی بے بسی کا اظہار کریں جب ہم اپنی احتیاج کااظہار کریں تو ہمیں کس قدر عاجزی اختیار کرنی چاہئے لیکن افسوس کہ ہم جس طریقے سے اللہ کے سامنے اپنی حاجت رکھتے ہیں اس بارے میں ہمیں بہتر پتہ ہے ۔اس تحریر میں ایسی ہی غلطیوں کے بارے میں بتارہے ہیں

جو کہ ہم دعا مانگنے میں کرتے ہیں اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں وہ غلطیاں کیا ہیں؟یادرہے کہ بندہ ہر چیز کا محتاج ہے یہاں تک کہ اپنی حفاظت کرنے میں بھی وہ اللہ کا محتاج ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اے انسانوں تم سب اللہ کی بارگاہ کے فقیر ہو اور اللہ صاحب دولت اور قابل حمد و ثنا ہے دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ خدا سب سے بے نیاز ہے۔

اور تم سب اس کے فقیر اور محتاج ہو یاد رہے کہ انسان کے پاس اپنے فقر سے بہتر اور کوئی چیز نہیں ہے جو اس کی بارگاہ میں پیش کرسکے کیونکہ انسان کا اللہ کی بارگاہ میں اپنے آپ کو فقیر بنا کر پیش کرنے سے اس کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور جتنا بھی انسان اللہ کی بارگاہ کا فقیر رہے گا اتنا ہی اللہ کی رحمت سے قریب رہے گا اور اگر وہ تکبر کرے گا اور اپنی حاجت و ضرورت کو اس کے سامنے پیش نہیں کرے گا

اتنا ہی وہ رحمتِ خداوندی سے دور ہوتا جائے گا یاد رہے کہ انسان جتنا بھی گڑگڑا کر دعا مانگے گا اتنا ہی وہ رحمت خداوندی سے قریب ہوتا جاتا ہے انسان کے مضطر ہونے کی سب سے ادنیٰ منزل یہ ہے کہ وہ اپنے تمام اختیارات کا مالک خدا کو سمجھے یعنی خدا کے علاوہ کوئی اس کی دعا قبول نہیں کرسکتا اور مضطر کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس دوسرا کوئی اختیار نہ رہے یعنی اگر کوئی اختیار ہے تووہ صرف اور صرف خدا کا اختیار ہے اور اس کے علاوہ کو ئی اختیار نہیں جب ایسا ہوگا۔

تو انسان اپنے آپ کو اللہ کی بارگاہ میں نہایت مضطر محسوس کرے گا اور اسی وقت انسان اللہ کی رحمت سے بہت زیادہ قریب ہوگا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے بھلا وہ کون ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کو آواز دیتا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کرتا ہے یعنی مضطر کی دعا اور اللہ کی طرف سے اس کی قبولیت کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے

اور دعا میں اضطرار اور چاہت کا مطلب خدا کے علاوہ دنیا ومافیہا سے قطع تعلقی ہے اور صرف اورصرف اسی سے لَو لگانا ہے اس کے علاوہ وہ غیرِخدا سے طلب اور دعا نہیں ہوسکتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ دعا انسان کو کوشش اور عمل کرنے سے بے نیاز کردیتی ہے جس طرح کوشش اور عمل دعا کرنے والے کو اللہ سے دعا کرنے سے بے نیاز نہیں کرتی۔

دعا میں کی جانے والی چار بڑی غلطیاں یہ ہیں۔1:اللہ کی حمدو ثنا کئے بغیر دعا مانگنا۔2:دعا کے شروع اور آخر میں حضور ﷺ پر درود نہ بھیجنا ۔3:دعا کو غافل دل کے ساتھ مانگنا ۔4:قبولیت کے زمان و مکان میں دعاؤں کا نا مانگنا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Leave a Comment