حضرت بلال رضی اللہ عنہ ، اور حور کا واقعہ

شب معراج سرکاردو عالم ﷺ جب فرشتوں کے جھرمٹ میں عالم ملکوت کی سیر فر ماتے ہوئے جنت الفردوس میں تشریف لے گئے تو ایک جگہ سرکار دو عالم ﷺ نے ایک حور کو رنج وغم میں مبتلا دیکھا اور حضرت جبرائیل ؑ سے فرمایا یہ حور کیوں رو رہی ہے؟ آخر اس کو کو ن سا دکھ ستا رہا ہے جب جبرائیل علیہ السلام نے دریافت کیا تو اس حو نے عرض کی کہ میں نے اس لیے اپنا یہ حال بنا رکھا ہے

کہ سرکار دو عالم ﷺ کی رحمت بھری نگاہیں مجھ پر بھی پڑیں اور پھر اپنا حال عرض کرنے کی سعادت حاصل کروں جب حور کو سرکار دو عالم ﷺ کی بارگاہ میں حا ضر ہوکر حال عرض کرنے کی سعادت مل گئی تو اس نے جھک کر سلام عرض کرنے کے بعد اپنی سرگزشت سنائی

کہ یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے مجھے جنت کی حوروں میں حسن ِ و جمال کی ملکہ بنایا اگر میں بے نقاب ہو جاؤں تو دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں اور جنت میں دوپہر کا اجالا ہوجائے۔

یا رسول اللہ ﷺ ایک کا واقعہ ہے کہ اچانک میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ بروزِقیامت ہر حور کو کسی نہ کسی جنتی شخص کے حوالے کیا جائے گا میرا بھی کوئی ضرور ساتھی ہوگا بالآخر میں نے خالق کائنات کی بارگاہ میں عرض کی کہ تیرا بے حد احسان کہ تو نے مجھے حوروں کی ملکہ بنا یا ہے۔ اب میری خواہش ہے پوری کردے کہ جنت میں میر ا ساتھی کون ہی ہستی ہوگی۔

رحمتوں کا دریا جوش میں آیا اور میری التجا قبول ہوئی حکم ہوا سامنے جو آئینہ رکھا ہے اسے ایک نظر دیکھ لو تیرے ساتھی کی جھلک نظر آجائے گی یا رسول ﷺ جب میں دیوانہ وار آئینے کی طرف بڑھی تاکہ اپنے ساتھی کی جھلک دیکھ سکوں یونہی نگاہ اٹھائی دل پر ایک بجلی گری اور آرزوؤں کا سارا تصور جل گیا اس وقت سے آج تک بے چین ہوں اور اس غم کی وجہ سے رو رہی ہوں، کہ سیا ہ فام کے ساتھ میرا کیوں جوڑا بنا یا گیا اور میں کس طرح دائمی زندگی اس کے ہمراہ بسر کروں گی جب کہ اس کا تصور ہی میرے لیے وحشت ناک ہے ۔

سرکار دو عالم ﷺ نے مسکراتے ہوئے دریافت کیا اپنے ساتھی کا جو سراپا تو نے آیئنے میں دیکھا ہے اس بارے میں کچھ بیا ن کر و اس نے عرض کی سر تا پاؤں مجسم سیاہی موٹے ہونٹ، چوڑے دانت، بھدا چہرہ، تنگ وتاریک پیشانی ، چھوٹی چھوٹی آنکھیں جیسے ہی حور نے اپنے رفیق جنت کے بارے میں سرکار ﷺ کو بتا نا شروع کیا اور حلیہ کے بارے میں بیان سماعت فرمایا تو سرکار نے سرمبارک اٹھایا اور جلا ل سےدیکھتے ہوئے فر مایا تو نے جو سراپا پیان کیا ہے وہ تو میرے پیارے بلال کا ہے۔

ایک عاشق رسول کا سراپا ایک وفادار، ایک گوہر نایاب کو پا کر اپنی کم نصیبی کا شکوہ کرکے رو رہی ہے کیا تجھے نہیں معلوم کہ بلال میرا عاشق ہے میں نے اسے اپنی پلکوں کے سائے میں پناہ دی میرا بلال ایسی شان والا ہے کہ بروز قیامت اس کے جسم کی سیاہی حواران جنت کے رخساروں پر تل بنا کر تقسیم کر دی جائےگی۔

وہ ایسا عاشق ہے کہ اس پر عشق ہی کی وجہ سے ہرآسائش نے منہ پھیر لیا ہے اپنے حسن وجمال کا غرور نہ کر ہوسکتا تو ستر ہزار نقاب الٹ کے میرے بلال کے سامنے آئے اور میرا بلال تجھے ناپسند کردے۔

آپﷺ کا فرمان سن کر حور اضطراب شوق کی وجہ سے چیخ اٹھی اور عرض گزار ہوئی!! آپﷺ میری معذرت قبول فرمائیں میرا غم والم شکوہ شکایت جاتے رہے ہیں۔ مجھے وہی بلال پسند ہیں میری خوش نصیبی تھی کہ سرکاردوعالم ﷺ کا عاشق زار میرے حصہ میں آیا۔ آپ ﷺ اس کی معذرت قبول فرماتے ہوئے دعائیں دیتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔