فرشتے دوزخی کو جنت میں لے جائیں گے

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے روایت ہے فرما یا کہ روزِقیامت اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابو لبشر آدم علیہ السلام عرشِ الہیٰ کے پاس سبز حلہ پہن کر تشریف فرماہوں گے اور یہ دیکھتے ہوں گے کہ فرشتے میری اولاد میں کس کس کو جنت میں لے جاتے ہیں اور کس کس کو دوزخ میں۔

اچانک آدم علیہ السلام دیکھیں گے کہ سید الانبیاء والمرسلین ﷺ کے ایک امتی کو فرشتے دوزخ کی طرف لے جارہے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام یہ دیکھ کر ندا کریں گے اے اللہ تعالیٰ! کے حبیب ﷺ آپ کے ایک امتی کو ملائکہ کرام دوزخ کی طرف لے جارہے ہیں۔

سید دو عالم ﷺ فرماتے ہیں یہ سن کر میں اپنا تہبند مضبوط پکڑ کر ان فرشتوں کے پیچھے دوڑوں گا اور کہوں گا اے رب تعالیٰ کے فرشتو ٹھہر جاؤ۔فرشتے سن کر عرض کریں گے یا حبیب اللہ ﷺ ہم فرشتے ہیں اور فرشتے اللہ کے حکم کی عدولی نہیں کرسکتے اور ہم وہ کام کرتے ہیں جس کا ہمیں دربارالہیٰ سے حکم ملتا ہے۔

یہ سن کر نبی کریم ﷺ اپنی ریش مبارک (داڑھی مبارک) پکڑ کر دربار الہیٰ میں عرض کریں گے۔ اے میرے رب کریم کیا تیرا میرے ساتھ وعدہ نہیں ہے کہ مجھے میری امت کے بارے میں رسوا نہیں کرو گے۔ تو عرش الہیٰ سے حکم آئیگا اے فرشتو! میرے حبیب ﷺ کی اطاعت کرو او اس بندے کو واپس میزان پر لے چلو، فرشتے اس بندے کو فوراً میزان پر لے جائیں گے

اور جب اس کے اعمال کا وزن کر یں گے تو آقا ئے دو عالم ﷺ اپنی جیب سے ایک نو ر کا سفید کاغذ نکالیں گے اور بسم اللہ شریف کر میزان پر نیکیوں کےپلڑے میں رکھ دیں گے تو اس کا نیکیوں والا پلڑا وزنی ہوجائے گا۔ اچانک ایک شور برپا ہوگا، کامیاب ہوگیا، کامیاب ہوگیا اس کو جنت میں لے جاؤ۔

جب فرشتے ان کو جنت میں جارہے ہونگے تو وہ کہے گا اے میرے رب کے فرشتو! ٹھہر و اس بزرگ سے کچھ عرض کر لوں تب وہ عرض کرے گا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔

آپ کا کیسا نورانی چہرہ ہے اور آپ کا خلق کتنا عظیم ہے آپ نے میرے آنسوؤں پر رحم کھایا اور میری لغزشوں کو معاف کرایا۔ آپ ﷺ کون ہیں؟ فرمائیں گے میں تیرا نبی محمد ﷺ ہوں اور یہ تیر ا درود پاک تھا جو تونے مجھ پر پڑھا ہوا تھا وہ میں نے آج کے دن کےلیے محفو ظ رکھا ہوا تھا۔