دریائے نیل کا واقعہ عشق رسول ﷺ کی روشنی میں

جب مسلمانوں نے مصر کو فتح کیا تو قبطی لوگوں نے فاتح مصر حضرت عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ ، سے کہا کہ ہماری روایت ہے کہ جب (اا) راتیں اس مہینے کی گزاریں تو ہم ایک کنواری لڑکی جو ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہو اسے نئے کپڑے پہنا کر دریائے نیل کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

حضرت عمرو بن العاص نے یہ سن کر فرما یا یہ فعل اسلام میں ہرگز نہیں ہوسکتا اسلام ایسی باتوں کو مٹانے والا ہے ۔ چنانچہ وہ تاریخ آئی اور نکل گئی تو نیل کا چلتا پانی بند ہو گیا یہاں تک کہ لوگوں نے وہاں سے نکلنے کی تیاری کرلی جب امیر نے یہ حال دیکھا تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سارا ماجرا مفصل لکھ کر بھیجا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے امیر مصر کو جواب لکھا کہ تم نے خوب کیا ہے۔ بے شک اسلام ناپاک رسموں کو مٹانے آیا ہے۔ میں ایک دریائے نیل کے نام خط بھیجتا ہوں تم اس خط کو نیل میں ڈال دو اور جلد واپس آجانا جب آپ کا خط پہنچا تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اسے پڑھا “امیر المومنین کی طرف سے دریا نیل مصر کی جانب

اے نیل ! اگر تو اپنی طرف سے چلتا ہے تو ہرگز نہ چل اگر اللہ چلاتا ہے تو میں اللہ قہار سے عرض کر تاہوں کہ وہ تجھ کو جاری کر دے”َ۔چنانچہ یہ فرمان آپ کا یوم صلیب سے ایک دن قبل دریائے نیل میں ڈال دیا گیا۔

جب دوسری صبح ہوئی تو دریائے نیل اسی رات ہی پورے زور سے 13 فٹ اونچا بہنے لگا اور آج تک رکنے کا نام نہیں لیتا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ دوسری صبح سولہ گز دریا نیل زیادہ چڑھ کر بہہ رہا تھا۔ یہ ہے ایک عاشق مصطفیٰ ﷺ کا مقام کہ دریا بھی ان کے کہنے سے چل پڑتے ہیں۔

سچے عاشق رسول ہیں انھیں کائنات کی ہر شے کو مسخر کرنا کوئی مشکل نہیں ۔ مصر کے لوگ عاشق رسول کی اس کرامت کو دیکھ مسلمان ہوگئے۔

Leave a Comment