عورت سراپا برائی ہے،اور سب سے بڑی بُرائی اس میں یہ ہے کہ ؟

ڈرو اس لئے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے کہ گویا تمہیں بخش دیا ہے۔سب معاملے تقدیر کے آگے سرنگوں ہیں یہاں تک کہ کبھی تدبیر کے نتیجہ میں موت ہوجاتی ہے ۔ہر فتنہ میں پڑ جانے والا قابلِ عتاب نہیں ہوتا۔

جب تمہیں تھوڑی بہت نعمتیں حاصل ہوں تو ناشکری سے انہیں اپنے تک پہنچنے سے پہلے بھگا نہ دو۔حیا کی دو قسمیں ہیں،ایک وہ جو بتقاضائے عقل ہوتی ہے۔یہ حیا علم و دانائی ہے اور ایک وہ جو حماقت کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔جس کسی نے بھی کوئی بات دل میں چھپا کررکھنا چاہی وہ اس کی زبان سے بے ساختہ نکلے ہوئے الفاظ اور چہرہ کے آثار سے نمایاں ضرور ہوجاتی ہے۔

مرض میں جب تک ہمت ساتھ دے چلتے پھرتے رہو۔ بہترین زُہد ،زہدکا مخفی رکھنا ہے۔جب تم دنیا کو پیٹھ دکھارہے ہو اورموت تمہاری طرف رخ کئے ہوئے بڑھ رہی ہو تو پھر ملاقات میں دیر کیسی ؟

سخاوت کرو لیکن فضول خرچی نہ کرو اور جزرسی کرو،مگر بخل نہیں۔جو شخص لوگوں کے بارے جھٹ سے ایسی باتیں کہہ دیتا ہے جو انہیں ناگوار گزریں تو پھر وہ اس کے لئے ایسی باتیں کہتے ہیں کہ جنہیں وہ جانتے نہیں۔

جس نے طول طول امیدیں باندھیں،اس نے اپنے اعمال بگاڑ لئے۔نیک کام کرنے والا خود اس کام سے بہتر اور برائی کا مرتکب ہونے والا خود اس برائی سے بدتر ہے۔

کامیابی دور اندیشی سے وابستہ ہے اور دوراندیشی فکر و تدبر کو کام میں لانے سے،اور تدبر بھیدوں کو چھپا کررکھنے سے ۔ بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینے کے حملے سے ڈرتے رہو۔ لوگوں کے دل صحرائی جانور ہیں،جو ان کو سدھائے گا اس کی طرف جھکیں گے۔جب تک تمہارے نصیب یادرہیں تمہارے عیب ڈھکے ہوئے ہیں۔

سخاوت وہ ہے جو بن مانگے ہو ،اور مانگے سے دینا شرم ہے یا بدگوئی سے بچنا ۔ مال نفسانی خواہشوں کا سرچشمہ ہے۔عورت سراپا برائی ہے اور سب سے بڑی برائی اس میں یہ ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں بلا کسی رکاوٹ کے مردوں کی موجودگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ان سے مسائل دریافت کرتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم انھیں بڑے اطمینان سے جواب دیتے تھے۔

اور کبھی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس بات پر نہیں ٹوکا کہ تم مردوں کی موجودگی میں آکر کیوں باتیں کرتی ہو؟ خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی عورتوں کی آواز کو پردہ نہیں تصور کیا جاتا تھا چنانچہ مشہور واقعہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔

دوران خطبہ کسی عورت نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کسی بات پر بھری مجلس میں ٹوکا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےاپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا۔ اور کسی کے ذہن میں یہ بات نہیں آئی کہ اس عورت نے بھری مجلس میں بات کیوں کی۔ کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین عورت کی آواز کو پردہ نہیں تصور کرتے تھے۔

Leave a Comment