رنج وغم اور ادائے قرض کے لیے

حضرت ابو سعیدی خدری ؓفرماتے ہیں کہ ایک دن کا ذکر ہے آنحضرت ﷺ مسجد میں تشریف لائے وہاں ایک انصاری ابو امامہ ؓ بیٹھتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابو امامہ ؓ تو بے وقت مسجد میں کیوں بیٹھا ہے؟ عرض کیا یا رسول اللہ طرح طرح کے رنج وغم ہیں اور لوگوں کے قرض میرے پیچھے چمٹے ہوئے ہیں

فرمایا میں تجھے ایسے چند کلمے بتا ئے دیتا ہوں کہ ان کے پڑھنے سےا للہ تعالیٰ تیرا رنج وغم دور کرے گا اور قرض ادا کردے گا توصبح و شام یوں کہا کر:”اَللَّھُمَّ اِ نِّیْ اَ عُوْ ذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ وَ اَ عُوْ ذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَ ا لْکَسْلِ وَاَ عُوْ ذُ بِکَ مِنَ ا لْجُبْنِ وَا لْبُخْلِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ غَلبَۃِ الدَّیْنِ وَ قَھْرِ الرِّجَالِ ۚ “ترجمہ: “یا اللہ میں پنا ہ پکڑتا ہوں تیری ، فکر سے اور غم سے اور پناہ پکڑتا ہوں ، کم ، ہمتی اور سستی سے اور پناہ پکڑتا ہوں تیری بزدلی اور بخل سے اور پناہ پکڑتا ہوں تیری قرض کے گھیر لینے سے اور لوگوں کے دبا لینے سے”۔

حضرت ابو امامہ ؓفرماتے ہیں کہ میں چند ہی روز ان کلمات کو پڑھتے پایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا رنج وغم دور فرمایا اورقرض بھی ادا کرا دیا۔ حضرت ابو الدرداءؓ کو کسی نے آکر خبر دی کہ آپ کا مکان جل گیا ہے حضرت ابو الدرداءؓ نے (بڑی بے فکری سے )فرمایا کہ ہرگز نہیں جلا۔ اللہ تعالیٰ ہرگز ایسا نہیں کریں گے

کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص یہ کلمات شروع دن میں پڑھ لے تو شام تک اس کو کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، اور جو شام کو پڑھ لے تو صبح تک اس پر کوئی مصیبت نہ آئے گی۔

اور بعض روایات میں ہے کہ اس کے نفس میں اور اہل و عیا ل میں اور مال میں کوئی آفت نہ آئے گی اور میں یہ کلمات صبح کو پڑھ چکا ہوں تو پھر مکان کیسے جل سکتا ہے ۔ پھر لوگوں سےکہا چل کر دیکھو، سب کے ساتھ چل کر مکان پر پہنچے ، تو دیکھتے ہیں کہ محلے میں آگ لگی ، اور ابو لدرداءؓ کے مکان کے چاروں مکانات جل گئے اور ان کا مکان بیچ میں محفوظ رہا

وہ کلمات یہ ہیں:”اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِ لہُ اِ لَّا اَنْتَ ۚعَلَیْکَ تَوَ کَّلْتُ وَاَ نْتَ رَبُّ الْعَرْ شِ الْعَظِیْمِ ط مَا شَا اللہُ کَا نَ وَمَا لَمْ یَشَأْلَمْ یَکُنْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بَا اللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ اَعْلَمُ اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَی قَدِیْرُٗ ط وَاَنَّ اللہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَییء عَلْماًطترجمہ:”اے اللہ آپ میرے رب ہیں آپ کے سوا کوئی معبو نہیں میں نے آپ پر بھروسہ کیا اور آپ رب ہیں عرش عظیم کے جو اللہ پاک نے چاہا (وہ ) ہوا اور جو نہ چاہا نہ ہوا،

گنا ہوں سے پھر نے اور عبادت کرنے کی طاقت اللہ ہی طرف سے ہے جو بلند (اور) عظیم ہے۔ میں جانتا ہوں بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ نے گھیر لیا ہے ۔ ہر چیز کو اپنے علم کے ذریعہ۔

Leave a Comment