قرآن مجید کی روشنی میں لین دین کے عمومی اصول

زیرِ نظر تحریر کا موضوع انسان کےمعاشرتی معاملات ’’لین دین‘‘ سے ہے-یعنی انسان اپنے معاشرتی معاملات میں ایک دوسرے سے لین دین کس طریق سے بخوبی نبھا سکتا ہے- کیونکہ معاملات کی پابندی انسان کوایک اچھا شہری، ایک اچھا فرد بننے میں مدد فراہم کرتی ہے- قرآن مجید و سنت مبارکہ کی عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ عبادات کو تفصیل میں جبکہ معاشرتی معاملات یعنی لین دین کو عام اصطلاحات ومسلمہ اصولوں کی صورت میں بیان کیا گیا ہے-

بالفاظ دیگر معاملات کے لئے مسلمہ اصول واضح کئے گئے ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے حالات و واقعات کےمطابق قانون سازی کی جاسکتی ہے- شریعت نے معاملات کو اصولوں کی روشنی میں اس لئے بیان کیا تاکہ مختلف لوگ، مختلف جگہوں سے اور مختلف وقت میں اس سے راہنمائی حاصل کر سکیں-

جس کی وجہ شریعت محمدی (ﷺ)کی جامعیت اور عالمگیریت ہے- قرآن پاک میں لین دین کے معاملات کوطے کرنے کے لئے کچھ اسلامی اصول بیان کیے گئے ہیں

جن میں سے کچھ کاذکردرج ذیل میں کیا جارہاہے:لین دین میں باہمی رضا مندی پہلا اصول ہے جس کا مطلب اسلامی قوانین میں دونوں فریقن کا آزادانہ طور پربغیر کسی خوف و ڈر کے رضا مند ہونا ہے- کسی لین دین کے معاہدے کی توثیق کے لئے ضروری ہےکہ دونوں فریقین باہمی طور پر رضا مند ہوں- ایسا معاہدہ جس میں جبر، دھوکہ، غلط بیانی اور دوسرے غیر قانونی عناصر شامل ہوں؛ ایسے معاہدے کو شریعت باطل قرار دیتی ہے-

اس کو باطل کرنے کی علت پارٹیز کی باہمی رضا مندی اور معاہدے میں شامل ہونے کا ارادہ نہ ہونا ہے کیونکہ جبر، دھوکہ، غلط بیانی جیسے عوامل سے باہمی رضا مندی اور ارادہ باقی نہیں رہتے- باہمی رضا مندی کو قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں بڑی اہمیت دی گئی ہے-

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :قمار اور میسر سے بچاؤ بھی اسلامی اصولوں میں ایک بہت اہمیت کا حامل اصول ہے- اسلام نے جوا کی تمام صورتوں کوسختی سے منع کیا ہے اسلام میں میسر اور قمار جوا کی ایسی اقسام ہیں جو مکمل طور پر ممنوع ہیں-

میسر سے مراد بغیر کوئی مشقت اور ذرائع آمدن استعمال کیے- یعنی دوسروں کوحق سے محروم کرتے ہوئے دولت کو اکٹھا کرنا- مطلب بہت آسانی سےمنافع حاصل کرنا- مثال کے طور پر لاٹری کا پیسہ، پانسے سے کھیلنا اور بازی یا شرط لگانا میسر کی تعریف پر پورا اترتا ہے-قمار وہ آمدنی، منافع یا حصول منافع پر مشتمل ہے جس کا مکمل انحصار قسمت اورموقع پر ہو-

قرآن مجید نے ان سے بچنے کی تنبیہ فرمائی ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:حاضرمیں اسلامی قانون کا تصورِربا بالعموم اور اسلامی بینکنگ کے آغاز سے بالخصوص ایک بہت اہم مسئلہ ہے- ربا کے لغوی معنی زیادتی، بڑھوتی اور بلندی کے ہیں-

اسکالر نبیل صالح کے مطابق اصل رقم میں ایک ہی جنس کی دو چیزوں کے درمیان ایک غیر قانونی اضافہ ربا کہلاتا ہے-ربا کی ممانعت قرآن و احادیث میں بہت سے جگہوں پرفرمائی گئی ہے:خیلابہ اور غش بھی اسلامی اصولوں میں فریب اور دھوکہ دہی کے معنوں میں آتے ہیں – قرآن اور سنت نے دھوکہ دہی اور جھوٹ سےمنع کیا ہے-

خلابہ، غش اور تطفیف کے الفاظ قرآن مجید میں دھوکہ دہی کے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں- اس کو اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ فروخت کی جانے والی چیز کی خرابی کو چھپانا-دھوکہ کے کاموں میں نام تول کی کمی کو (تطفیف)، ایک چیز کی قیمت بڑھانے کیلئے غلط بولی لگانا (نجش)، ایک دودھ دینے والے جانور کی پیداوار کو خریدار کے سامنے غلط بیان کرنا (تسریعہ) کہا گیا ہے-قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

Leave a Comment