مرد ہاتھوں پر مہندی لگانے سے پہلے حضور ﷺ کا فرمان ضُرور سن لیں

مرد کے لیے سر اور داڑھی کے بالوں میں سیاہ رنگ کے علاوہ مہندی کا خضاب لگانا درست ہے۔ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگانا عام حالات میں خواتین کے ساتھ خاص ہے، جب کہ مردوں کے لیے خواتین کی مشابہت اختیار کرنا اور ہاتھ پیر میں مہندی لگانا درست نہیں۔ البتہ مجبوری کی صورت میں (مثلاً بطورِ علاج) مرد کے لیے ہاتھ اور پاوٴں میں مہندی لگانے کی اجازت ہے۔

مرد کے لئے یہ جائز نہیں کیو نکہ اس میں عورتوں کۃ ساتھ مشابہت ہے اور رسول اللہﷺ نے ان مردوں پر لعنت فر مائی ہے جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردوں کی مشابہت کرتی ہیں ۔بلکہ ابو داود اپنی سنن((326/2 مین لائے ہین ’’باب الادب ‘‘۔

ابوہریرۃ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مخنث لایا گیا جس نے ہاتھ پاؤں میں مہندی لگائی ہو ئی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :یہ کیوں کرتا ہے؟‘‘ تو انہوں نے کہا :یہ عورتوں کی مشابہت کرتا ہے تو آپ ﷺ نے اسے نقیع کی طرف بھگا دینے کا حکم دیا ۔ تو کسی نے کہا : اے اللہ کے رسو ل ﷺ ٖپ اسے قتل کیو ں نہیں کرتے، تو فرمایا :’’مجھے نمازیوں کے قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ‘‘۔

تو یہ صحیح حدیث دلالت کرتی کہ مردوں کے لئے ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانی جائز نہین ۔ اور بیماری کی وجہ سے اس کا استعمال جائز ہے جیسے دلالت کرتا ہے ان کا یہ قول :’’ما بال ھٰذا‘‘۔ یعنی یہ کس کے لئے مہندی لگاتا ہے ،‘‘ اور سنن مین وارد ہے کہ نبیﷺ بیمار کی جگہ پر مہندی رکھا کرتے تھے ۔رہا عورتوں کا مہندی لگانا تو اس کی ترغیب حدیثوں مین بکثرت آئی ہے

مراجعہ کریں نیل الاوطار (/6344( اور داڑھی میں مہندی لگانا سنت ہے۔عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: مرد کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیلے اور اس کا رنگ چھپا رہے، اور عورتوں کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو چھپی رہے ، اور آپ ﷺ نے زین کے اوپر انتہائی سرخ ریشمی کپڑا ڈالنے سے منع فرمایا،

تخریج دارالدعوہ:تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٨٠٥)،و مسند احمد (٤/٤٤٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني: صحيح، المشکاة (4443)، مختصر الشمائل (188)، الرد علی الکتاني ص (11) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2788

Leave a Comment