لاغر اور کمزور بکری نے دست رحمت لگتے ہی دودھ دینا شروع کر دیا

ابھی یہ رحمتوں والا قافلہ غارثور اور مدینہ منورہ کے راستے میں تھا کہ حضور اکرمﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ایک باوقار خاتون سے ہوئی جس کا تعلق بنی خزاعہ سے تھا اس کا نام ام معبد عاتکہ بنت خالد بن معبد بن ربیعہ تھا جو ام معبد کی کنیت سے مشہور تھی اور راستہ میں راہگیروں کی خدمت کرتی تھی، اور ایک عمررسید ہ خاتوں تھیں۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے پوچھا کہ تمہارے پاس گوشت اور کھجور فروخت کرنے کےلیے ہے۔ اس نے جواب دیا ۔ اگر ہمارے پاس کوئی چیز ہوئی تو ہم آپ کی میزبانی میں کوئی کوتاہی نہ کرتے ۔

حضورﷺ نے ملاحظہ فرمایا کہ کونے میں ایک بکری ہے حضورﷺ نے فرمایا : ام معبد یہ بکر ی کیسی ہے؟ اس نے بتا یا کہ یہ بکری کمزوری کی وجہ سے دوسرے جانوروں کے ساتھ ریوڑ میں نہ جاسکی اسی لیے یہیں پر کھڑی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا اس میں کچھ دودھ ہے عورت نے کہا کہ یہ بڑی لاغر ہے اس میں دودھ کہاں۔

حضورﷺ نےفرمایا تم مجھے اس بات کی اجازت دیتی ہو کہ میں اس کادودھ دوھ لوں اس نے کہا اگر اس میں دودھ ہے تو بڑی خوشی کی دودھ لیجئیے۔ حضورﷺ نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے نام سے اس پر ہاتھ پھیرااور اس کو اپنے دست مبارک سےمس کیا۔ نبوت والے ہاتھ لگتے ہی اس سے دودھ نکل آیا ۔

حضورﷺ نے فرما یا بڑا برتن لے آؤ چنانچہ حضورﷺ نے اسے دوہنا شروع کر دیا اس میں جھاگ اٹھنے لگی یہاں تک کہ وہ برتن بھر گیا کیونکہ نبوت کے ہاتھ لگتے ہی وہ کمزور بکری صحت مند ہوگئی تھی اور اس کی کمزوری جاتی رہی حضور اکر مﷺ نے بامراد پہل ام معبد کو دودھ پلایا پھر اپنے ساتھیوں کو دودھ پلایا جب سب دودھ سے سیراب ہوگئے تو ساقی کوثر نے دودھ نوش فرمایا۔

اور پھر فرمایا “سَاقِی القوم اٰخِرُھُم” قوم کو پلانے والا سب آخر میں پیتا ہے۔ حضورﷺ نے پھر اس بکر ی کا دودھ دھویا اور برتن بھر گیا پھر رحمت دوعالم ﷺ نے وہ برتن ام معبد کے حوالے کیا او ر سفر پر روانہ ہوگئے۔ تھوڑی دیر بعد جب اس بوڑھی عورت کا خاوند ابو معبد عسکری کہتےہیں اس کا نام کثیم بن ابی الجون تھا۔

لاغر بکریوں کو لے کر گھر آیا اس نے جب دودھ کا بھرا ہو ابرتن دیکھا تو حیران رہ گیا اور اپنی بیوی سے پوچھا کہ گھر میں توکوئی جانور نہیں ہے اور ایک کمزور بکری تھی جس کے تھنوں میں دودھ کا ایک قطرہ نہ تھا یہ اتنا بڑا برتن دودھ کا کہاں سے آگیا۔ چنانچہ اس بوڑھی عورت نے سارا ماجرا سنا یا اور کہا ایک مبارک انسان گزرا ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہے۔

جب اس نے حضورﷺ کے چہرے مبارک کی خوبصورتی کا منظر اپنے خاوند سے پیش کیا تو اسنے کہا یہ وہی ہستی ہے جس کی تلاش میں مکہ والے مرجارہے ہیں۔

Leave a Comment