شادی کے بعد بیوی اچھی کیوں نہیں لگتی۔

امام علی ؓ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور دست ادب کو جوڑ کر عرض کرنے لگا یا علی ؓ شادی کے بعد مجھے میری بیوی اتنی اچھی کیوں نہیں لگتی میں نے جس عورت سے شادی کی نکاح کیا بہت کوششوں اور منتوں کے بعد کیا لیکن شادی کے بعد میرا میری بیوی کے لئے پیار مجھے بہت معمولی سا لگتا ہے آخر ایسا کیوں؟

بس یہ کہنا تھا تو امام علی ؓ نے فرمایا اے شخص یاد رکھنا انسان ہر اس چیز کو خاص سمجھتا ہے جو اس کے لئے حاصل کرنا مشکل یا ناممکن ہے اگر آج تم اپنی بیوی کے لئے وہ پیار وہ احساس نہیں رکھتے جو اس کے لئے نکاح سے پہلے رکھتے تھے۔

تو اس میں قصور تمہاری بیوی کا نہیں بلکہ تمہاری ہی سوچ کا ہے دیکھو اللہ نے تمہیں کتنی روشن آنکھیں دیں دیکھو اللہ نے تمہیں ہر بات سننے کے لئے کان دیئے چیزوں کو اٹھانے کے لئے ہاتھ دیئے چلنے کے لئے قدم دیئے بولنے کے لئے زبان دی لیکن تم روز روز ان نعمتوں کو یاد تک نہیں کرتے ان کا شکر تک نہیں کرتے یہ نعمتیں تم تب یاد کرو گے جب تم ان سے محروم ہوجاؤ گے

انسان ہر اس چیز کو عام سمجھتا ہے جو اس کے پاس موجود ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی ہے اور اسی غلطی کے ترازوں میں وہ اپنی شادی کو بھی تولتا ہے شادی کے بعد مرد کو یہ لگتا ہے۔

کہ اگر میری بیوی خاص ہوتی تو مجھے اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی افسوس ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں پر شکر نہیں کرتا بلکہ اپنی ہی حقیر سوچ سے اللہ کی نعمتوں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اور پھر کسی دوسری تمنا کی خواہش کرتا ہے اور اس کے پیچھے بھاگ کے اپنے آپ کو رسو کر بیٹھتا ہے یا د رکھنا خواہشات کی حقیقت سوائے دھو کے کے کچھ نہیں

آج جس خوشی کے پیچھے تم بھاگ رہے ہو اس کو حاصل کرنے کے بعد تمہیں وہ معمولی سی لگے گی انسان کا پیٹ صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے تو وہ کہنے لگا یا علی میں ایسا کیا کروں کہ میری سوچ میرا پیار میری بیوی کے لئے پہلے جیسا ہوجائے۔

بات جب یہاں تک پہنچی تو امام علی ؑ نے فرمایا تم اپنے وجو دمیں یہ سوچ پیدا کرو کہ تمہاری بیوی کو تمہارے لئے اللہ نے منتخب کیا ہے قدرت نے منتخب کیا ہے اور جو قدرت منتخب کرتی ہے جو اللہ انتخاب کرتا ہے اس میں کسی بھی قسم کی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی آج جو چیزیں تمہیں اچھی نہیں لگتیں

ان پر صبر کر کے یہ سوچو کہ اس میں اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی جب تم اس سوچ کو تسلیم کرنے لگو گےتو تمہارےوجود میں تمہاری بیوی کے لئے پیار دن بدن بڑھتا رہے گا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

Leave a Comment