انسان ذلیل کیوں ہوتا ہے؟

امام علی ؓ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور دست ادب کو جوڑ کر عرض کرنے لگا یا علی ؓ انسان زندگی میں ذلیل کیوں ہوتا ہے بس یہ کہنا تھا تو امام علی ؓ نے فرمایا اے شخص یادرکھنا انسان ذلیل اپنی عادتوں سے ہوتا ہے اللہ ہر انسان کو ایک مقام بخشنا چاہتا ہے قدرت باربار انسان کی مدد کرنے کے لئے ہاتھ بڑھاتی رہتی ہے

لیکن انسان کی کچھ عادتیں انسان کو بے عزتی کی دلدل میں ڈس لیتی ہیں اور یوں انسان خلقت کے نزدیک ذلیل ہونے لگتا ہے تووہ کہنےلگا یا علی وہ کونسی عادتیں ہیں امام علی ؑ نے فرمایا اے شخص جس انسان کے اندر یہ تین عادتیں ہوں وہ اللہ کی خلقت کے نزدیک بے عزت و ذلیل ہوجاتا ہے۔

پہلی عادت:جو فضول خرچ کرتا ہوں کیونکہ میں نے اللہ کے رسولﷺ سے سنا فضول خرچ کرنا شیطان کی صفت ہے جو انسان فضول خرچ کرتا ہے وہ مفلس ہو کے ذلیل ہوجاتا ہے اس درمیانی امت کی نشانی اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمائی ہے ،جہاں پر اللہ تعالی نے اپنے محبوب اور چنے ہوئے بندوں کا ذکیا ہے ،

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اور خالص بندے وہ ہیں جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ تو اس میں اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل ،اور وہ ان دونوں کے درمیان والا راستہ اختیار کرتے ہیں۔یعنی وہ لوگ اپنے واجب خرچوں میں انصاف اور درمیانہ راستہ اختیار کرتے ہیں ،کمی اور زیادتی نہیں کرتے ۔اللہ تعالی کے بندے وہ ہیں جو اپنے خرچوں میں انصاف کرنے والے ہیں ،اللہ تعالی نےجو حدود متعین فرمائی ہیں ان سے نہ تجاوز کرتے ہیں اورنہ ان کامو ں میں کمی کرتے ہیں۔

جو اللہ تعالی نے ان پر فرض فرمائے ہیں ۔ہم روز مرہ کے معاملات میں اس صفت کو اکثر لوگوں کی زندگی میں نہیں پاتے ،اکثر لوگ فضول میں خرچی میں پڑے ہوئے ہیں ،اپنے تمام کاموں اور معاملات،مثلا کھانے اور پینے میں،کپڑوں اور سواریوں میں ،اور شہوات اور لذتوں میں اسراف کرتے ہیں۔

اور دوسرا جھوٹ بولنا میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ جو انسان اللہ کی خلقت سے جھوٹ بولتا ہے تو اللہ کی مخلوق کے نزدیک وہ دن بدن ذلیل ہوتا جاتا ہے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے

اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تیسرا غصہ کرنا میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ جو انسان اللہ کی مخلوق پر غصہ کرتا رہتا ہے تو یوں وہ اللہ کی خلقت کے دلوں سے اترجاتا ہے۔

اور بے عزتی کی دلدل میں گر کر ذلیل ہونے لگتا ہے اے شخص تم ان تین چیزوں سے اپنے آپ کو بچا لو تم تا ابد تاحیات محترم رہو گے ۔حضرت سلیمان بن صدور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺکے سامنے دو آدمی ایک دوسرے سے لڑے- ان میں سے ایک غضب ناک ہوا اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اس کی گردن کی رگیں پھول گئیں- نبی کریم ﷺنے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا،مجھے ایک ایسے جملے کا علم ہے کہ اگر وہ یہ جملہ کَہ دے تو اس کا غضب فرو ہو جائے گا –

وہ جملہ یہ ہے،اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم- ایک جس نے نبی کریمﷺکی یہ حدیث سنی تھی وہ اس شخص کے پاس گیا اور اس سے کہا تم جانتے ہو کہ ابھی رسول اکرم ﷺ نے کیا فرمایا تھا؟ اس نے کہا نہیں! اس نے کہا آپ ﷺنے فرمایا تھا کہ مجھے ایسے جملے کا علم ہے اگر اس نے وہ جملہ کَہ دیا تو اس کا غصہ ختم ہو جائےگا –

وہ جملہ یہ ہے اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم، اس شخص نے کہا! کیا تم مجھے دیوانہ سمجھتے ہو۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Comment