امام علیؑ سردیوں میں گرمیوں اور گرمیوں میں سردیوں والا لباس کیوں پہنتے تھے؟

حضرت علیؑ گرمیوں میں سردیوں اور سردیوں میں گرمیوں والا لباس کیوں زیب تن فرماتے تھے؟عبدالرحمان بن ابی لیلا سے مروی ہےکہ میرے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رات کو بیٹھے باتیں کیا کرتے تھے۔ سیدنا علی ؑ گرمیوں میں سردیوں اور سردیوں میں گرمیوں والا لباس پہنا کرتے تھے ۔کسی نے میرے والد سے کہا ان سے اس کی وجہ تو دریافت کریں۔

چنانچہ انہوں نے ان سے کہا اور سیدنا علی ؑ نے کہا۔خیبر کے روز میری آنکھ دکھتی تھی ۔تو آپ ﷺ نے مجھے بلوایا اور میری آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا۔اور مجھے دعا دیتے ہوئے فرمایا : اے اللہ تعالیٰ!اس سے گرمی سردی کا احساس دور کردے۔چنانچہ مجھے اس دن سے نہ گرمی محسو س ہوتی ہے اور نہ سردی محسوس ہوتی ہے۔

نیز اس دن آپ ﷺ نے فرمایا تھا میں یہ جھنڈا اس آدمی کو عطا کروں گا۔جسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے۔اللہ اور اس کے رسول بھی محبت رکھتے ہیں۔اور وہ میدان ِ شکست سے فرار ہونے والا نہیں ہے۔چنانچہ جھنڈا دینے کے وقت نبی کریم ﷺ کے بہت سے اصحاب نے گردن اوپر کو اٹھائی اور اس وقت آپ ﷺ نے یہ جھنڈ ا مجھے عطا کیا۔

اس حوالے ایک اور واقع ہے یہ واقعہ غزوہ اُحد کا ہے۔کہ مسلمان گھیراؤ میں آچکے تھے۔کیونکہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جن کی ڈیوٹی گھاٹی پر تھی اوروہ یہ سمجھ کر کہ لڑائی ختم ہوچکی ہے۔اپنی جگہ سے نیچے اتر آئے تھے۔اس گھاٹی کو خالی پاکر کفار نے مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کردیا تھا۔

اور یوں مسلمان گھیراؤ میں آگئے تھے۔اسی گھیراؤمیں ہمارے آقا حضور اکرمﷺ بھی زخمی ہو گئے تھے۔کیونکہ صحابہ کی جماعت لڑائی میں مصروف تھی۔اس لیے کفا ر آپ ﷺ پر پہنچنے تک کامیاب ہوگئے تھے۔اس وقت آپ ﷺ کے پاس صحابہ کی مختصر جماعت موجود تھی۔بعض روایت میں 9 بتائی گئی ہے اور بعض میں 7 ہے۔

ان صحابہ کے دفاع کے باوجود بھی کفارنے آپ ﷺ کو زخمی کر دیا تھا۔آگے کے صفحوں میں لڑنے والے صحابہ کو معلوم ہوا کہ مسلمان گھیراؤ میں آگئے تو اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جو شجاعت و بہادری تھی ۔اس کو اس حوالے بیان کیا جاتا ہے۔کہ حضرت علی ؑ خود فرماتے ہیں ۔کہ جب احد کے دن جب لوگ آپﷺ سے منہضم ہوگئےتو میں نے مقتولین میں دیکھاتو آپﷺ نظر نہ آئے۔

میں نے دل میں کہا واللہ آپ ﷺ بھاگ نہیں سکتے۔اور مقتولین میں آپ کو دیکھ نہیں رہا ہوں۔اس لیے میں سمجھتا ہوں ۔کہ ہم نے جو کچھ کیا ہےاس سے اللہ غضب ناک ہوکر آپ ﷺ کو اٹھا لیاہے۔

لہٰذا میرے لیے اس سے بہتر کوئی صورت نہیں ہے۔کہ لڑتے لڑتے شہید ہو جاؤں۔میں اپنی تلوار کی میان توڑ دی اور قریش پر زور دا ر حملہ کیا۔کہ انہوں نے جگہ خالی کردی۔اب کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ﷺ گھیرے میں موجود ہیں۔ان صحابہ نے آپﷺ کےلیے جان قربان کردی۔اس وقت مسلمان کو گروہ آپﷺ کی طر ف پلٹے تو ان میں سرفہرست ابوبکرصدیقؑ، عمربن خطاب اور علی بن ابی طالب وغیرہ حضرات شامل تھے۔

تو یہ آپﷺ کی حفاظت اور دفاع کے لیے آگے آگئے تھے۔اس پر حضور اکر م ﷺ نے فرمایا : کہ بے شک علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔تو یہ حضرت علی ؑ کی شجاعت کا واقعہ جو احد کےموقع پر پیش آیا۔

Leave a Comment