اللہ کے ولی کے پاس جنات کا سردا ر قرآن پڑھنے آتا

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کئی عالم تخلیق کیے۔ اس کرہ ارض پر دو ایسی مخلوقات ہیں ۔کہ جن کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء معبوث فرمائے۔ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے سزا جزا کا تصور پیش کیا۔ یعنی یوم ِ آخرت ۔اللہ تعالیٰ کی یہ دو مخلوقات انسان اور جن ہیں۔جنا ت کی دنیا اسرار کے پردے میں چھپی رہتی ہے۔

جنات انسان کی نظروں سے پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔ زمین کی تخلیق سے پہلے اللہ تعا لیٰ نے جنات کو مختلف جزائراور ویران جگہوں پر مقید کر دیا تھا۔اب آپ کو ایک جن کا واقعہ بتا تے ہیں۔یہ ایک سچاواقعہ ہے۔ جسے حضرت عقیل بن رحمتہ اللہ علیہ نے بیا ن کیا۔ اور امام سیوطی ؒنے اپنی کتاب “الف نون” میں اسے تحریر کیا ہے۔

حضر ت عقیل ؒ فرماتے ہیں کہ ان کا ایک گھر تھا ۔جب بھی لوگ اس میں قیام کرتے تو صبح کو مردہ پائے جاتے۔جس کے بارے میں ہم بہت پریشان تھے۔اور اب اس گھر میں رہنے کو کوئی نہیں تیار رہتا تھا۔ایک مرتبہ ایک مغربی شخص آیا۔اور اس کو یہ مکان پسند آگیا۔اور اس نے یہ مکان خرید لیا۔اس شخص نے اس گھر میں رات بسر کی۔

اور صبح کو صیح سالم تھا۔جو توقعات کے خلاف تھا۔یہ دیکھ کر پڑوسی اور باقی سب لوگ حیران ہوئے۔اس شخص نے اس گھرمیں زمانہءدراز تک قیام کیا۔اس شخص سے اس گھرمیں رہنے کی وجہ دریافت کی گئی ۔ اس نے جواب دیا جب میں نے گھر خریدا تو پہلے دن سے میرا یہ معمول تھا کہ میں سونے سے پہلے عشاء کی نماز پڑھتا ۔اور قرآنِ مجید کی تلاوت بھی کرتا ۔

میری یہ عادت ہے کہ میں بآواز تلاوت کرتا ہوں۔ جب پہلے دن میں نماز اد اکی۔ اور قرآن کی تلاوت کرنے لگا۔تو اچانک میں نے ایک جوان کو دیکھاجو کنوئیں سے باہر نکل رہاتھا۔اس نے مجھے سلام کیا۔ تو میں ڈر گیا۔اس نے کہا ڈرو نہیں مجھے بھی قرآن مجید سکھادو۔چنانچہ میں اسے قرآن مجید سکھانے لگا۔

میں اس نوجوان سے اسکے اور اس کے گھروالوں کے بارے میں قصہ معلوم کیا۔اس نے کہا میں مسلمان جن ہوں۔ ہم اس کنوئیں میں عرصہ دراز رہ رہے ہیں۔ہم نماز بھی پڑھتے ہیں اورقرآن مجید کی تلاوت بھی کرتے ہیں۔ اس سے پہلے جتنے بھی لوگ آئے وہ سب بدکار تھے۔شراب نوشی کرتے تھے اس لیے ہم ان کا گلا دبا کر مار دیتے تھے۔کیونکہ ہم برائی کو برداشت نہیں کرسکتے ۔

مجھے قرآن سیکھنے کا بہت شوق ہے۔ میں نے جب آپ کی تلاوت کی آواز سنی تو میں کنوئیں سے باہر آگیا۔تاکہ آپ سے قرآن سیکھو۔ابن عقیل ؒ نےاس سے کہامیں رات کو تم سے ڈرتا ہوں تم دن میں آیا کرو۔اس نے میری بات مان لی ۔ اس کے بعد وہ دن میں کنوئیں سے باہر آتا ۔اور میں اسے قرآن پڑھاتا۔ایک دن ایسا ہوا کہ جن قرآن مجید پڑھ رہا تھا۔اور ایک منتر پڑھنے والا دروازے پر آیا۔اور کہا میں سانپ اور بدنظری کا دم کرتا ہوں۔

تو اس جن نے کہا کہ یہ کیا چیز ہے۔میں نے کہا یہ جھاڑ پوڑ کرنے والا شخص ہے۔ جوسانپوں وغیرہ کو پکڑتے ہیں۔جب سانپ والے جھاڑ پوڑ کی تو وہ گھر کے دروازے پر گر پڑا۔جیسے وہ سانپ گر ا وہ شخص اٹھااور اسے پکڑکر اپنی گٹھری میں ڈال دیا۔میں اسے منع کیا اور کہا تم مجھے میرے شکار سے منع کرتے ہو ۔

میں اس کو ایک اشرفی دی اور چلاگیا۔اس کی گٹھر ی نے حرکت کی اور وہ سانپ سے جن کی شکل میں آگیا۔لیکن وہ کمزور ہو دبلا اور پتلا اور پیلا ہو چکاتھا۔میں اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے۔جن نے کہا منتر پڑھنے والے مجھے ان اسمائے مبارکہ سے قتل کردیا۔اب مجھے اپنے بچنے کی امید نہیں ہے۔

اب جب کنوئیں سے چیخ کی آواز سنو تو چلے جانا۔اور رات کے وقت چیخ کی آواز سنی۔تو میں وہاں سے چلاگیا۔تو یہ اس جن کا واقع تھا جس نے بہت لوگوں کو قتل کیا۔وہ مسلمان جن تھا جسے برائی سے نفرت تھی اور قرآن پڑھنے کا شوق تھا۔

Leave a Comment