واش روم کرتے وقت اگر ایسا ہو تو پھر نماز قبول نہیں ہوگی۔

انسان اپنے جسم اور اپنے ساتھ لگی ہوئی گندگیوں کو جن کی وجہ سے عبادت ہی قبول نہیں ہوتی ان کو دور کرنے کا بطور خاص اہتمام کرے ان میں سب سے پہلے پیشاب کی چھینٹوں سے بچنا کیونکہ اگر یہ چھینٹیں جسم پر ہوں تو عبادت بھی قبول نہیں ہوتی تو اس لئے بہت احتیاط کے ساتھ اس سے بچنا ضروری ہے اسی لئے جو حکم دیا گیا وہ یہ کہ پیشاب کرتے ہی فورا ہی اٹھ جانا چاہئے

کیونکہ بعض اوقات کچھ حصہ یورینل ٹریک میں رہ جاتا ہے اورپھر بعد میں ڈراپس کی شکل میں باہر آتا ہے تو اس طرح کچھ لوگوں کے کپڑوں کے ساتھ لگ جاتا ہے یا اور جگہوں پر وہ چلاجاتا ہے۔

جس سے نجاست مزید پھیلتی ہے گندگی پھیلتی ہے اور اگروہ آپ کے کپڑوں میں گر گیا ہے اور وہ کپڑے آپکے جسم کے ساتھ بار بار لگ رہے ہیں تو تھوڑا سا رک جانا چاہئے تا کہ جسم پوری طرح صاف ہوجائے پورا پیشاب باہر آجائے تو ایسی نما ز جس میں طہارت کا اہتمام نہ کیاگیا ہو جسم ناپاک ہو وہ نماز قبول نہیں ہوتی تو آپ سو دفعہ کہتے رہیں

ان صلاتی ونسکی و محیای ومماتی للہ رب العالمی لیکن آپ کی صلاۃ اسی وقت اللہ رب العالمی کے لئے ہوگی جب اس کی پسند کے مطابق ہوگی اور اس کی پسند کے مطابق کرنے کے لئے کیاضروری ہے۔

اس میں سب سے پہلا قدم طہارت کا ناپاک چیزوں سے اپنے آپ کو دور کرنے کا ہے ورجز فہجر نبی ﷺ ایک مرتبہ ایک باغ میں تشریف لے گئے وہاں آپ نے دو شخصوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیاجارہا تھا تو نبی ﷺ نے فرمایا ان پر عذاب ہورہا ہے اور کسی بہت بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں پھرفرمایا بات یہ ہے کہ ایک شخص ان میں سے پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کااہتمام نہیں کرتا تھا

اور دوسرا شخص چغلخوری کرتاتھا یعنی ایک ایسا شخص تھا کہ جو ظاہری گندگی کا شکار تھا اور دوسرا اخلاقی گندگی کا شکار تھا تو ان دونوں میں بھی ایک مماثلت ہے پیشاب کے چھینٹے بھی اڑتے ہیں کپڑوں پر پڑجاتے ہیں اور چیزوں پر پڑجاتے آس پاس کے ماحول میں بکھر جاتے ہیں۔

تو اس سے بری بو کے علاوہ اور بہت سی خرابیاں لاحق ہوتی ہیں اسی طرح جو چغلخوری ہے وہ بھی گندگی کو پھیلانے والی بات ہے اور اس سے بھی انسان اخلاقی طور پر نجس ہوجاتا ہے ناپاک ہوجاتا ہے اس سے فتنہ و فساد بھی پھوٹتا ہے جس طرح پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے نماز تو نہیں ہوتی اور اس کے ساتھ ساتھ کئی بیماریاں بھی پھیل سکتی ہیں

کئی امراض بھی جنم لے سکتے ہیں اسی لئے آپ دیکھئے کہ کئی امراض کی تحقیق پیشاب کے ٹیسٹ سے کی جاتی ہے یعنی انسان کا جو پیشاب کا سپیسیمن ہے اس سے بہت سے امراض کا پتہ چلتا ہے انسان کے جسم کی پوری کیمسٹری اس سے سامنے آجاتی ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ انسان اپنے آپ کو اپنی ہی نجاست یا اپنی ہی اخلاقی برائیوں کے شر سے محفوظ رکھے ۔

Leave a Comment