جب بھی کوئی آپ کا ساتھ نہ دے یہ وظیفہ کر لو۔سب سے زیادہ کمائی آپ کی ہوگی۔اسی وقت اللہ کی فوری مدد حاصل ہوگی۔

سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم یہ بھی بڑا شان والا کلمہ ہے امام بخاری ؒ نے اپنی حدیث اسی پر ختم کی ہے کلمتان خفیفتا علی للسان حبیبتان الی الرحمٰن ثقیلتان فی المیزان سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم یہ بھی پڑھا کرو اور رزق کی وسعت کے لئے استغفار پڑھا کرو

استغفرواللہ الذی لاالہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ اور ایک اور بھی عمل بتلایا ہے ایک صحابی نے آکر کہا کہ حضور مجھے اس قدر غربت اور فقر نے گھیر لیا ہے میں جو بھی کام کرتا ہوں فیل ہوجاتا ہے تو حضورﷺ نے فرمایا ایسا کرو کہ جب تم دوکان میں داخل ہو اور دروازہ کھولو تووہاں کہا کرو۔

السلامُ علیکم والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ ﷺ قل ھواللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد یہ ایک دفعہ پڑھ لیا کرو گھر میں جاؤ دکان میں جاؤ جب بند ہوجائے پہلی دفعہ داخل ہو تو یہ پڑھ لیاکرو صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے جب عمل کیا چند دن گزرے کہ میں تو اپنے علاقے کا سب سے امیر کبیر بن گیا میں مٹی میں بھی ہاتھ ڈالتا تھا وہ بھی سونا ہوجاتی تھی۔

پر یہ ہے مشکل کہ آدمی قرآن حدیث کے وظیفے نہیں پڑھتا کوئی مکار پیر بتلا دے کہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کے قبرستان میں یہ وظیفہ کرنا ہے اور آنکھیں بھی بند رکھنی ہے تمہیں بلائیں نظر آئیں گی ڈرنا بھی نہیں ہے میں جو تمہارے ساتھ ہوں کسی کو کھڑا کردو بلائیں اس کو ویسے بھی نظر آئیں گی قبرستان ہو ٹانگ ایک ہو چکر آئے گا بلائیں نظر نہیں آئیں گی تو کیا ہوگا اس میں کونسا پیر کی پیری ہے ۔

سیدنا اَغرالمزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بعض اوقات ) میرے دل پر بھی پردہ سا آجاتا ہے اور میں دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔س حدیث کے تحت امام قرطبی رحمہ اللہ نے بڑی جامع بحث کی ہے ، جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے : اس حدیث سے کسی کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ جسطرح عاصی و باغی شخص کا دل گناہوں کے اثر کو قبول کرتا ہے ،

ویسے نبی کریم ﷺ کے دل کو بھی گناہ نے متاثر کیا ہے ۔ (العیاذ باللہ) بلکہ وہ مغفور و مکرم ہیں اور کسی چیز کے ذریعے سے ان کاکوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ “غین” (بادل کا چھا جانا) گناہ کے سبب سے نہیں ہے ۔بعض علماء نے اس حدیث کی وضاحت میں کئی اقوال بیان کئے ہیں

چونکہ نبی ﷺ ذکر پر مداومت فرماتے تھے، پس جب کوئی وقفہ یا سہو ہوجاتا تو اس بنا پر استغفارکرتے تھے۔آپ ﷺ شکر اور اظہارِ عبودیت کے لئے استغفار فرماتے۔ آپ ﷺ کو جب امت کے احوال سے مطلع کیا جاتا تو آپ ان کے لئے استغفار کرتے تھے۔

Leave a Comment