جب بھی کوئی شخص آپ کو زیادہ تنگ یا پریشان کرے تو یہ کام کرے۔

ہم زندگی میں بہت دفعہ ایسے معاملات یا رویوں کا سامنا کرتے ہیں جن سے ہمیں دلی روحانی اور بعض اوقات جسمانی اذیت بھی ہوتی ہے مثلا کوئی ہم سے نامناسب الفاط میں بات کرے بدتمیزی کرے منفی رویہ ظاہر کرے غلط بیانی یا الزام تراشی کرے تو ان حالات کو کس طرح ہینڈل کیاجائے تو اس کے لئے کچھ ریمیڈیز ہیں پہلی بات تو یہ کہ سب سے پہلے اللہ کی طرف رجوع کیاجائے

واستعینو بالصبر والصلوٰۃ صبر اور نماز سے مدد لی جائے دوسرے کو جواب دینے سے پہلے اپنی غلطی کو بھی دیکھاجائے کہ ایسے حالات پیش کیوں آئے جہاں دوسرے کی اصلاح کی ضرورت ہو تو عمدہ طریقے سے سمجھایا جائے

کیونکہ ادفع بالتی ھی احسن فاذی الذی بینک وبینہ عداوۃ ا س طریقے سے دور کرو جو سب سے بہترین ہو تو نتیجہ کیا ہوگا کہ وہ تمہارے اور اس کے درمیان اگر عداوت ہے تو وہ گہرادوست بن جائے گا یہی انسان کی اصل کامیابی ہے کہ انسان اپنے دشمنوں میں اضافہ کرنے کی بجائے دوستوں میں اضافہ کرے

لیکن اس کے لئے اپنی اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے جنت میں اعلیٰ درجات اسی وقت مل سکتے ہیں جب انسان دنیا میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرے ہم سب انسان ہیں غلطی کرتے ہیں لیکن اللہ کو وہ لوگ بہت پیارے ہیں جو اللہ سے معافی مانگیں بندوں سے معافی مانگ لیں کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے

جو اللہ کے لئے تواضع اختیار کرے گا اللہ اس کو بلندی عطافرمائے گابہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ آخر کب تک صبر کریں ان سب کو جان لینا چاہئے کہ جب تک نماز پڑھنا فرض ہے صبر کرنا بھی لازم ہے اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے ۔آپ سب کے لئے دعائیں اور نیک تمنائیں ہیں۔

زندگی کے سفر میں انسان ہمیشہ ایک جیسی حالت میں نہیں رہتا، کوئی دن اس کے لئے نویدِ مَسَرَّت (خوشخبری)لے کر آتا ہے تو کوئی پیامِ غم، کبھی خوشیوں اور شادمانیوں کی بارش برستی ہے تو کبھی مصیبتوں اور پریشانیوں کی آندھیاں چلتی ہیں۔ ان آندھیوں کی زَد میں کبھی انسان کی ذات آتی ہے، کبھی کاروبار اور کبھی گھر بار۔ الغرض! مصیبتوں اور پریشانیوں سے انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

اسی لئے اسلام نے مصیبتوں میں صَبْر اور خوشیوں میں اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرنے کی تعلیم دی ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: مؤمن کا معاملہ کتنا عجیب ہے کہ اس کے لئے ہر معاملے میں خیر ہی خیر ہے اگر اسے خوشی پہنچے اور شکر کرے تو یہ اس کے لئے خیر ہے اور اگر مصیبت پہنچے اور اس پر صَبْر کرے تو یہ اس کے لئے بَھلائی ہے۔

صَبْر کا معنیٰ ومفہوم: صبر کا معنی ہے نفس کو اس چيز سے باز رکھنا جس سے رُکنے کا عَقْل اور شريعت تقاضا کررہی ہو۔ صبر بظاہر تین حَرْفی لفظ ہے مگر اپنے اندر ہمّت، حوصلہ، برداشت، تَحَمُّل، بھلائی، خیر، نرمی، سکون اور اطمینان کی پوری کائنات سَموئے ہوئے ہے۔ صبرِ جمیل: صبرِ جمیل (بہترین صبر) یہ ہے کہ مصیبت میں مبتلا شخص کو کوئی پہچان نہ سکے۔

صبر کی اہمیت: مقامِ صبر پر فائز ہونا بہت بڑا مرتبہ ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قراٰنِ پاک میں 70 سے زائد مرتبہ صبر کا ذکر فرمایا اور اکثر دَرَجات و بھلائیوں کو اسی کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ نے صابرین کے ساتھ ہونے کا بھی وعدہ فرمایا ہے چنانچہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے: وَ اصْبِرُوْااِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔

اس کے علاوہ قراٰنِ پاک میں صبر کو تَقَرُّبِ الٰہی،دین کی سرداری، بہترین اوربے حساب اَجر، نُصْرَتِ رَبّانی اور رب کی رحمتیں پانے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ صبر کی اہمیت اوراحادیثِ مبارکہ جس بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی عزت میں اضافہ فرمائے گا۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: جب میں بندۂ مؤمن کی دنیا کی پیاری چیز لے لوں پھر وہ صبرکرے تو اس کی جزا جنّت کے سوا کچھ نہیں۔صبر ا ور ہمارا معاشرہ : افسوس! آج ہم صبر سے بہت دور ہو چکے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ ایک تعداد ذِہنی دباؤ، ڈپریشن،شوگر اور بلڈپریشر جیسے مُہْلِک اَمْراض میں مبتلا ہو رہی ہے۔

یاد رکھئے! بڑے بڑے عقلمندوں کی بصیرت کے چراغ بے صبری کی وجہ سے گُل ہو جاتے ہیں،آج دینی و دُنْیَوی معاملات میں صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تباہی کی سمت جارہا ہے،لڑائیاں عام ہوچکی ہیں، دوسروں کے بغض و کینے سے سینے بھرے ہوئے ہیں، آستینیں چڑھی ہوئی ہیں اور لوگ ماردھاڑ پر کمر بَسْتَہ ہیں۔ محبوبِ خدا کا صبر:نبیِّ اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مکمل زندگی صبر و تَحَمُّل سے لبریز ہے،

کافروں نے مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ علیہِ الصَّلٰوۃ والسَّلام پر ظلم و سِتَم کے پہاڑ توڑے، پتھر برسائے، راہ میں کانٹے بچھائے،جسمِ اَطْہر پر نجاسَتیں ڈالیں،ڈرایا،دھمکایا،بُرا بھلا کہا،قتل کی سازشیں کیں مگر کائنات کے آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کبھی کوئی ذاتی انتقامی کاروائی نہ کی، خود بھی صبر سے کام لیا اور رہتی دنیا تک اپنے ماننے والوں کو مصائب میں صبر کی تلقین ارشاد فرمائی۔

آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ ڈھارس نشان ہے:جسے کوئی مُصیبت پہنچے اسے چاہئے کہ اپنی مُصیبت کے مقابلے میں میری مُصیبت یاد کرے بے شک وہ سب مُصیبتوں سے بڑھ کر ہے۔

Leave a Comment