حضرت علی نے فرمایا آپ کسی کا اُدھار واپس نہ کرپاؤ تو آپ فوراً کیا کرو؟

قرض لینے والے لوگ اور قرض دینے والے لوگ یہ بات سنیں۔قرض دینے والے لوگ اور لینے والے لوگ اللہ تعالیٰ کا ایک حکم ذہن میں رکھیں اور آپ ان احکامات پر عمل کرنے کی کوشش بھی کریں۔ اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ تین احکاما ت کا حکم دیتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو قرض دیا جائے تو تحریری انداز میں لکھا جائے

دوسرا یہ کہ قرض کی ادائیگی کی تاریخ بھی متعین کرلی جائے اور دوگواہ بھی اس قرض کیلئے تیار کرلیے جائیں۔جو لوگ قرض کی ادائیگی کی سکت رکھنے کے باوجود قرض ادا نہیں کرتے ۔

ان کیلئے سخت وعیدں وارد ہوئی ہیں آپﷺ نے ایسے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کی جان اپنے قرض کیوجہ سے معلق رہتی ہےیعنی اس سے جڑی ہوئی ہوتی ہے ۔ یعنی جنت میں داخلے سے روک لی جاتی ہے ۔ اگر کوئی قرض ادا نہیں کرتا تب تک رکی رہے گی ۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ شہید کے تمام گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے لیکن کبھی کسی کا قرضہ معاف نہیں کرتا ۔جو شخص کسی اس نیت کیساتھ قرضہ لے کہ وہ اسے ادا کردے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس کے قرض کی ادائیگی کیلئے آسانیا ں پیدا فرما دے گا۔اگر نیت میں کھوٹ ہے اور چاہتا ہے کہ میں اس کے پیسے ہڑپ کرلوں گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ویسے ہی معاملات کرتا ہے جیسے وہ کرتا ہے ۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔ جابر ؓ فرماتے ہیں ایک شخص کا انتقال ہوا ہم نے اس شخص کا مل کر غسل کیا غسل ہونے کے بعد ہم نے نبی کریمﷺ سے کہا کہ آپ اس شخص کی نماز جنازہ پڑھا دیں آپﷺ نے سب سے پہلے یہی سوال پوچھا کہ اس پر کوئی قرض ہے تو ہم نے جواب دیا اس پر دو دینا کا قرض ہے آپﷺ نے فرمایا تم خود ہی اس کی نماز جنازہ فرما دو۔

اے اللہ کے رسول اس کا قرض میں اپنے اوپر لیتا ہوں۔ تو نبی کریمﷺ نے جواب دیا اب یہ قرضہ تمہارے اوپر ہوچکا ہے ۔ پھر آپﷺ نے اس شخص کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ایک مرتبہ نبی کریمﷺ کے پاس حضرت علی ؓ تشریف لائے کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ مجھ پر قرض آگیا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا اے علی ؓ میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوںاگر تمہارے اوپرپہاڑ جتنا بھی قرض ہے تو تیرا رب اس قرض کو اُتارنے کا بندوبست فرمائے گا۔

یہ قرض اپنی زبان پر لے آؤ۔الھم اکفنی بحلالک عن حرامک واغننی بفضلک عمن سواک۔اللہ مجھے حلال نصیب فرما اور حرام سے بچا اے اللہ مجھے اپنا فقیر بنا اپنے فضل سے مجھے دوسروں کے سامنے فقیر نہ بنانا۔جو قرض کی تنگی کیوجہ سے سخت پریشان ہیں جن کی نیت بھی ہے قرض اُتارنے کی وہ قرض نہیں اُتارپارہے ۔

ایک تسبیح اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ان کلمات کی ادا کرلیں ۔ایک مہینہ کے اندر اندر اللہ رب العزت آپ کا قرض اُتارنے کا بندوبست پیدا فرما دے گا۔

Leave a Comment