ایک لڑکی کی اللہ سے محبت اور عشق

ہر راحت اللہ نے جنت میں رکھ دی ہے۔ لیکن اس کی یاد میں رونے کا مزہ جنت میں نہیں پاؤ گے۔ آپ کڑوڑوں سال زندہ رہوگے۔ ایک آنسو نہیں نکل سکے گا۔ یہاں تنہائی میں رونا نہ عورت میں ہے نہ مر د میں۔نہ تخت میں ہے نہ محل میں ہے ۔ اس کے لیے رونا ، اس کے لیے جذبے قربان کرنا اپنے جذبات پر چھر ی چلانا ہے امام احمد بن حمبل ؒ بہت مشقت گزار کر دنیا سے گئے ۔

ایک بہت بڑے امتحان سے گزرے اور وقت کے بادشاہ نے انہیں بہت رلایا کہ خون و خون ہوگئے۔ جب انتقال کرگئے تو ایک دوست نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا فرمایا۔ تو کہا احمد تم نے کوڑھے کس کے لیے کھائے تھے ۔ میں نے کہا اے اللہ میں تیرے لیے کھائے تھے ۔یہ لذت جنت میں نہیں ملے گی۔ جوانی کی لذت پاؤ گے ، میاں بیوی کی لذت پاؤ گے، کھانے پینے کی لذت پاؤ گے ، زندگی کی لذت پاؤ گے اور خوشیوں کی لذت پاؤ گے ۔

لیکن اس کے لیے رونے تڑپنے کی لذت نہیں پاؤ گے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ احمد ہم جانتے ہیں تم نے یہ سب میرے لیے کیا ہے۔ جنت والے میرے دیدار کریں گے ۔ لیکن میں تمہیں ابھی اپنا دیدار کروادوں۔جینا ہے تو اس کے لیے جیو جس نے جینا دیا ہے۔ مرنا ہے تو اس کے لیے مروں جس نے مرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اپنے شوق بدلو۔ یہ انٹر ٹینمنٹ جنت میں نہیں ملے گی۔

جنید بغدادی ؒ رات کے وقت طواف کررہے تھے۔ ایک لڑکی جوان طواف کررہی اور زور زور سے یہ شعر پڑھ رہی ہو۔ اس کاترجمہ کچھ یوں ہے۔ میں نے اپنے دل کو بہت بچایا لیکن محبت نے آگے ڈیرے ڈال دیے اور محبت نے میرے دل میں پورا قبضہ کر لیا۔ میں نے تو بہت چھپایا لیکن چھپ نہ سکی۔ جب میں اس کا قرب کرنا چاہتی ہوں تو اپنے آپ مجھ پر ظاہر کر دیتا ہے۔

جب یہ ظاہر ہوتا ہے تو میں مر جاتی ہوں۔ وہ پھر مجھے زندہ کرتا ہے وہ پھر مجھے اپنا قرب دیتا ہے اور میرے رگ میں عشق کو پھیلا دیتا ہے ۔ جنید بغدادی ؒ نے کہا کہ بچی کچھ شرم کر حیاکر۔ کیا پڑھ رہی ہے اور کہاں پڑھ رہی ہے ۔

وہ بچی بھی ان کو نہ پہچان سکی۔ تو اس نے ایسے دیکھا جنید ؒ تو بدگمان نہ ہو جس کے عشق میں تو نیند چھوڑ کے آیا ہے اس کے عشق میں ،میں بھی نیند چھوڑ کر آیاہوں۔ تو کہنے لگی کس کا طواف کر رہے ہو تو کہنے لگے بیت اللہ کا۔ تو زور سے ہنسی اور کہا کہ میرے مولا کیسے تیرے دیوانے ہیں جو تجھے چھوڑ کر پتھروں کا طواف کرتے ہیں۔

جنید نے کہا کہ میں تو بے ہوش ہوگیا لیکن جب اٹھا تو وہ لڑکی جا چکی تھی۔ یہ مزہ جنت میں نہیں ملے گا۔ ایک بزرگ فرمایا کر تے تھے کہ اے اللہ تو کہتا ہے کہ جنت میں نماز نہیں ہوگی۔ تو نماز کے بغیر جنت میں جی کیسے لیتے ہوں گے۔یہ روزے اور روزوں کی بھوک کی شدت ، پیا س کی شدت اور اللہ کے لیے خواہشات کو قربان کرنا ، اللہ کے لیے جذبے قربان کرنا،یہ اللہ کی نعمت تو بہت بڑی ہے ۔ یہ یہی ملے گی۔ اس کی خوشی میں اپنی خوشی قربان کرو۔

غصہ نکالنے کا مزہ تو روز چکھتے ہو لیکن غصہ برداشت کرنے کو سیکھو۔ ہر جگہ لڑائی جھگڑ ے ، زمینوں کے فساد یہ سب ناک کا مسئلہ ہے اللہ کو بیچ میں لاکر دیکھو اے اللہ میرے تیرے لیے ذلیل ہو رہا ہوں۔اس کا مزہ لے کر دیکھو۔اس ذلت میں سارے مزے ہیں کہ ساری عزت قربان کی جاسکتی ہے۔

اس معاف کرنے میں مزہ ہے کہ سارے بدلے قربان کیے جاسکتے ہیں۔ اس خرچ کرنے میں وہ مزے ہیں کہ سارے بینک بیلنس قربان کیے جاسکتے ہیں ۔غم کو سہنے میں بھی اللہ نے مزہ رکھا ہے۔

Leave a Comment