ایک ایسا عمل جس کے کرنے سے آپ کو جنت کا لباس پہنایا جائے گا۔

اگر میاں بیوی میں رخصتی سے پہلے طلاق ہوجائے تو بعد میں کیا بغیر حلالہ نکاح کرسکتے ہیں بشرطیکہ طلاق تین نہیں دی ہے اگر طلاق تین کا عدد ہے تو قبلا نکاح بعدا نکاح ایک ہی حکم ہے آئندہ بغیر حلالے کے نہیں مل سکتے یعنی دوبار ہ نکاح نہیں ہوسکتا۔میت کو دفنانے کے بعد اسقاط تقسیم کی جاتی ہے

مثلا صابن پیسے ۔یہ غلط ہے صابن پیسے کی بات نہیں مردے کے ذمے جو نمازیں ہیں روزے باقی ہیں ان کافدیہ دیاجاتا ہے فقہ سے ثابت ہے ۔تجارتی مقاصد کے لئے خریدے گئے پلاٹوں پر زکوۃ کا نصاب قیمت خرید کے حساب سے ہوگا یا دستیاب قیمت فروخت پر جس وقت زکوۃ ادا کی جاتی ہے

اس وقت بازار میں جو اس کی قیمت بنتی ہے اس کے حساب سے زکوۃ آئے گی زکوۃ واجب الادا تاریخ پر ایک مشت ادا کرنا لازم ہے یا پورے سال رفتہ رفتہ بہتر یہ ہے کہ پورا ادا کرے ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا جو بندہ عاجزی کی وجہ سے اچھا لباس نہ پہنے تواتر سے اللہ اسے قیامت کے دن جنت کا لباس پہنائے گا۔

عورتوں کے لیے ریشم حلال ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عورتوں کے لیے ہرقسم کے ریشمی لباس پہننے کی اجازت ہے، جبکہ وہ سترو پردے والا ہو اور مردوں کے لیے ریشمی لباس حرام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:جس نے دنیا میں ریشمی لباس پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا۔ یہ وعید مردوں کے لیے ہے، ریشمی لباس کے ساتھ ریشمی گدے اور گدیاں بھی ممنوع ہیں اور ان کپڑوں میں ان کی نماز بھی قبول نہیں ہوگی۔

زعفرانی رنگ بھی مردوں کے لیے ممنوع ہے۔حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفرانی رنگ کا لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔سفید رنگ کا لباس اور کفن پسندیدہ ہےحضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھارے کپڑوں میں سے بہترین کپڑا سفید ہے، اس لیے تم اسے پہنو اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن پہناؤ۔

حضرت سمرہ بن جندبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سفید لباس پہنو، اس لیے کہ یہ بہت پاکیزہ اور عمدہ ہے۔دوسرے رنگوں کا لباس:سفید رنگ کے علاوہ دوسرے رنگوں کا لباس بھی جائز ہے سوائے ان رنگوں کے جن کی ممانعت آئی ہے، جیسے زعفرانی رنگ کا لباس مردوں کے لیے ممنوع ہے۔ یہ رنگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں استعمال کرتی تھیں،

اس لیےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مردوں کے لیے ممنوع قرار دے دیا۔ اس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ جو رنگ عام طور پر عورتوں میں رائج ہو، وہ مردوں کے لیے ممنوع ہوگا۔ عورتوں کی مشابہت بھی ممنوع ہے اور غیر وں کی مشابہت اختیار کرنا بھی جائز نہیں ہے۔تصویر والے پردے لٹکانا یا تصویریں لگانا ممنوع ہے۔اسی طرح تصویر والے کپڑے کے بارے میں بھی کہا گیا ہے۔

حضرت عائشہ ؓسے مروی ہے: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے گھر میں ایک تصویر والا پردہ لٹکایا ہوا تھا، اسے دیکھ کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوگیا اور اس پردے کو پکڑ کر پھاڑ دیا، پھر فرمایا: قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی تخلیق میں اس کی نقل اتارتے ہیں۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے

کہ تصویر سازی تخلیقِ الٰہی کی نقل ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے تصویر سازوں یعنی اللہ کے نقالوں کو سخت عذاب ہوگا۔لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروں اور دکانوں کو ان تصویروں سے پاک رکھنے کی کوشش کرے۔ حضرت عائشہؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کوئی تصویر والی چیز نہیں رہنے دیتے تھے، ایسی کوئی چیز آپ دیکھتے تو اسے توڑ دیتے۔

لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں اور اس قسم کی چیزوں سے اپنے گھروں کو پاک رکھیں اور اپنے بچوں کو اللہ کی پسند اور ناپسند چیزوں کے متعلق آگاہ کریں، کیونکہ یہ تمام والدین کا فرض ہے۔مردوں کے لیے ٹخنوں سے نیچے پاجامہ شلوار وغیرہ لٹکانا حرام ہےمردوں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

لباس ( شلوار، پاجامہ وغیرہ) کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا، وہ جہنم میں ہوگا۔ نیز فرمایا:قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں سے بات کرے گا اور نہ رحمت کی نظر سے انھیں دیکھے گا، جو اپنے تہمد [شلوار پتلون وغیرہ] کو تکبر سے اتراتے ہوئے نیچے لٹکاکر چلتا ہے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے سے بچو! کیونکہ یہ تکبر ہے اور اللہ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اتنی معمولی سی بات پر اتنی سخت سزا ناقابلِ فہم ہے ، لیکن جو لوگ ایمان و تقوے کے صحیح فہم اور شعور سے آگاہ ہیں، ان کے لیے اس میں حیرت و استعجاب کا کوئی پہلو نہیں۔ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے، تمام اختیارات اور قوتوں کا مالک وہی اور صرف وہی ہے۔اسبالِ ازار کئی گناہوں کا مجموعہ ہے۔اسبالِ ازار یعنی ٹخنوں سے نیچے چادر پاجامہ لٹکانے کو لوگ معمولی بات سمجھتے ہیں

جس کی وجہ سے اس گناہ کا ارتکاب عام ہے اور لوگ اس سے بچنے کا کوئی اہتمام نہیں کرتے، حالانکہ اس پر جہنم کی سخت وعید ہے۔ اس پر اتنی سخت وعید کی وجہ یہ ہے کہ یہ گناہ کئی گناہوں کا مجموعہ ہے: 1 پہلی بات یہ کہ اس عمل کو حدیث میں تکبر قرار دیا گیا ہے اور تکبر اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔ 2 اس میں عورتوں کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے اور یہ بھی نہ صرف ممنوع ہے بلکہ اس پر لعنت بھی وارد ہوئی ہے۔ 3 اس میں طہارت کے بجائے نجاست کا پہلو غالب ہے، جبکہ طہارت اختیار کرنے اور نجاست سے اجتناب کرنے کا حکم ہے۔ جب شلوار،پاجامہ زمین کے ساتھ لگتا ہوا جائے گا، تو اس میں زمین کی گندگی بھی شامل ہو جائے گی،

یوں لباس طہارت کے بجائے نجاست کا حامل ہوجاتا ہے اور پھر یہ اسی نجس کپڑے کے ساتھ نماز بھی ادا کر لیتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ تو اہلِ طہارت کو پسند فرماتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ} اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں طہارت اور نیکی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

غرور اور تکبر کسی بھی صورت میں ہو، وہ اللہ کو ناپسند ہے: یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص اچھا لباس پہن کر اور بالوں کو خوب بنا سنوار کر بھی تکبر کا اظہار کرتا ہے تو یہ چیز اسے ناجائز اور قابلِ سزا جرم بنا دے گی، جیسے حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص ایک (عمدہ) جوڑا زیبِ تن کیے جا رہا تھا، غرور و تکبر سے اس کا نفس پھولے نہ سما رہا تھا، اس نے شانوں تک اپنے پھیلے ہوئے بالوں کو خوب سنوارا ہوا تھا کہ اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا، پس وہ قیامت تک (اس میں) دھنستا چلا جائے گا۔ یہ خوش پوشاکی اور زیبایش و آراستگی کی سزا نہیں ہے۔

کیونکہ یہ دونوں چیزیں تو جائز ہیں، بلکہ بعض روایات میں اصحابِ حیثیت لوگوں کو اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہ سزا دراصل اس کے غرور اور فخر و تکبر کی وجہ سے ہے جس میں بعض لوگ بیش قیمت لباس پہن کر اور بناؤ سنگار کرنے کے بعد مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کی یہی حرکت اللہ کو نا پسند آتی ہے اور وہ محبوب سے مغضوب بن جاتے ہیں ،

کیونکہ اللہ کو تو عاجزی پسند ہے اور عجب و تکبر نا پسند ہے، چاہے وہ لباس میں ہو یا چال ڈھال میں، حسن و جمال کے اظہار میں ہو یا بول چال کے انداز میں، رہن سہن (بودو باش) میں ہو یا دوسروں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں، فخر و غرور کا انداز اللہ کو سخت ناپسند ہے۔

ایک حدیثِ قدسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار ہے ،جو بھی ان میں سے کسی کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا ، میں اس کو جہنم میں پھینک دوں گا۔

Leave a Comment