دشمنوں کو لگام ڈالنے والا پاور فل عمل حاسدین کی کوئی چال کام نہیں کرے گی۔

حاسد کے ساتھ بھی احسان کیا جائے تا کہ اس کے حسد کی آگ ٹھنڈی رہے جتنا اس کے ساتھ اس طرح کا پہلو ہوگا اس کی آگ کی چنگاریاں دور تک نہیں آئیں گی اس لئے اس بات کا بھی تذکرہ کیا گیا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے چونکہ مسلمانوں کو کچھ دعائیں اور اذکار بھی سکھائیں ہیں ان کا اہتمام بھی کیاجائے اور جاحظ نے کتنی خوبصورت بات کہی کہ جب تمہیں احساس ہو کہ تمہارا دوست تم سے حسد کررہا ہے

تو اس کا سب سے آسان علاج یہ ہے کہ تم اس سے زیادہ ملنا جلنا ختم کردو اس سے میل ملاقاتیں کم کردو یہ سب سے بہترین اور سب سے طاقتور علاج ہے اور اپنے راز اس کے سامنے پہنچانے سے اپنے آپ کو روکو تم اس کی شرارت سے محفوظ رہو گے۔

اور اسی طرح ایسی باتیں جس سے وہ آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اس سے بھی اپنے آپ کو محفوظ کردو کبھی بھی اس سے مشورہ کرنے کی ضرورت تمہیں محسوس نہیں ہونی چاہئے اس کے آنسوؤں کا اعتبار بھی نہ کرنا اور اس کی تیز زبان سے نکلی ہوئی تمہاری تعریف میں بھی کلمات ہوں اس کی پرواہ نہ کرنا یہ اس کے نفاق کی وہ رسیاں ہیں جس کے ذریعے وہ شکار کرے گا ۔

رسول اکرم ﷺ نے آخر میں فرمایا کہ جس طرح بغض اور حسد کرنا جائز نہیں اور ایک دوسرے کے بارے میں اس کی مخالفت میں اس کے پشت پیچھے باتیں کرنا جائز نہیں مقاطعہ کرنا جائز نہیں وہاں یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ بھائی بھائی بن کررہے۔

خوبصورت معاشرہ بنتا ہی ایسے ہے جس میں بغض نہ ہو جس میں حسد نہ ہو اور جس کے اندر لڑائی اور فساد نہ ہو اور ایک دوسرے کے پیچھے ایک دوسرے کی برائیاں بیان نہ کی جائیں۔بنی آدم کا سب سے بڑا حاسد شیطان ہے۔ اس کو عقیدۂ توحید سے بَیر ہے۔ اس عقیدے سے انسانوں کو برگشتہ کرنے کا اس نے پختہ ارادہ کیا ہے، اور اپنے اس ارادے کا اظہار بھی اس نے اللہ کے سامنے کر دیا۔

اللہ تعالیٰ نے بھی اس کو اس کی کھلی چھوٹ دے کر فرمایا کہ: جا ان میں سے جس کو جس طرح چاہے گم راہ کر۔ جو ان میں سے تیری پیروی کرے گا، تیرا اور اس کا ٹھکانا جہنّم ہوا، مگر یاد رکھ! میرے مخلص بندوں پر تیرا دائو چلنے والا نہیں۔ بعض سلف صالحین سے منقول ہے کہ حسد پہلا گناہ ہے جس کے ذریعے آسمان میں اللہ کی نافرمانی کی گئی اور زمین پر بھی یہ پہلا گناہ ہے۔

جس سے اللہ کی نافرمانی ہوئی۔ آسمان میں ابلیس نے اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا، اور زمین پر پہلا خون اسی سے ہوا ہے کہ آدم ؑ کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد ہی کی بنیاد پر قتل کر دیا تھا۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے ۔ اس کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ انسانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرائے اور ان کے دلوں میں بُغض و حسد کی آگ بھڑکائے۔

برادرانِ یوسفؑ کے دلوں میں بھی اسی نے حضرت یوسف ؑ کے خلاف حسد کی آگ لگائی تھی اور ان کے قتل پر آمادہ کیا تھا۔ جیساکہ قرآن نے برادرانِ یوسف ؑ کا یہ قول نقل کیا ہے: جب انھوں نے آپس میں تذکرہ کیا کہ یوسفؑ اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالاں کہ ہم جماعت کی جماعت ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں۔ چلو یوسفؑ کو قتل کردو یا اس کو کہیں پھینک دو کہ تمھارے ابا کی توجہ تمھاری ہی طرف ہوجائے۔ یہودی مسلمانوں سے بُغض و حسد رکھتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اُمت مسلمہ سے پہلے یہودی امامت ِ عالم کے منصب ِ جلیل پر فائز تھے اور سلسلۂ نبوت ان ہی کے خاندان میں چلاآرہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کی اَخلاقی پستی اور نااہلی کی وجہ سے امامت ِ عالم کے عظیم منصب سے ان کو معزول کردیا۔ نبوت اولادِ اسماعیلؑ کی طرف منتقل کر دی گئی تو یہودی چراغ پا ہوکر غم و غصے اور حسد میں مبتلا ہوگئے کہ یہ نبوت تو ہمارے خاندان کی میراث تھی۔

بنی اسماعیل اس کے کیوں کر مستحق ہوسکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نبوت انعامِ الٰہی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنے فضلِ خاص سے نواز دیتا ہے۔اس سلسلے میں حیل و حجت کرنے کا تمھیں کوئی اختیار نہیں ہے:اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ج فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰھِیْمَ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ اٰتَیْنٰھُمْ مُّلْکًاعَظِیْمًا پھر کیا یہ دوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انھیں اپنے فضل سے نواز دیا؟ اگر یہ بات ہے تو انھیں معلوم ہو کہ ہم نے تو ابراہیمؑ کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک ِ عظیم بخش دیا۔

Leave a Comment