اللہ غیب سے آپ کے لئے پیسوں کا انتطام کردےگا۔

اسم اعظم کی تاثیر یہی ہوتی ہے الذی اذا دعا بہ دعی بہ مستجیبا کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے تو وہ دعافورا منظورہوتی ہے اور خاص طور پر علماء نے اللہ کے صالحین بندوں نے لکھا ہے کہ جو لوگ ناحق قید خانے میں ہیں مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں ان کے لئے یہ دعا اکسیر اعظم ہے

ویسے تو ہر کام کے لئے لیکن ان کے لئے یہ زیادہ مجرب ہے کہ وہ اگر رات کی تنہائی میں اندھیرے میں بیٹھ کر پورے اخلاص سے یقین سے دورکعت نماز پڑھ کر یہ دعامانگیں تو اللہ تعالیٰ ان کی مشکل کو حل فرمادیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی ایسی چیز مشکل نہیں ہے وہ جو چاہیں جب چاہیں جیسا چاہیں کر دیں۔

لیکن دعا میں ایک تو یقین ہو اور دوسرا دعا میں اخلاص ہو تیسری بات یہ ہے کہ آدمی سچی بات کہتا ہو جھوٹ نہ بولتا ہو حرام نہ کھاتا ہو پیٹ میں حلال ہو پھر دعائیں مستجاب ہوتی ہیں اگر آدمی کا کھانا پینا پہننا اوڑھنا حرام سے ہے پھر تو دعامنظور نہیں ہوتی ۔پھر تو وہی ہو گا کہ جب وہ کہے گا لبیک وسعدیک تو آواز آتی ہے لا لبیک ولا سعدیک وحج مردود علیک تمہاری کوئی حاضری نہیں جاؤ حج تم پر ہم رد کرتے ہیں

جس کو اللہ نے علم دیا تھا کتاب دیا تھا وہ کہتے ہیں کہ وہ یہی اسم اعظم کا علم تھا کہ جس کو اللہ نے عطافرمایا تو انہوں نے اس سے دعامانگی حضرت سلیمان نے آنکھیں بند کیں کھولیں تو تخت حاضر تھا اسم اعظم کی یہ تاثیرہوتی ہے لیکن شرط پہلے ذکر کی جاچکی ہے کہ یقین بھی ہو اور انسان اخلاص کے ساتھ دعامانگے ایک دعائیں ہوتی ہیں۔

جیسے ہم طواف میں مانگ رہے ہوتے ہیں پڑھ رہے ہوتے ہیں پتہ نہیں ہوتا کیا پڑھ رہے ہیں کیا مانگ رہے ہیں بس کتاب میں لکھا ہے وہ رٹا لگا کے پڑھ رہے ہیں اسی لئے علماء نے لکھا ہے دعا کتابیں اٹھا کر پڑھنا بدعت ہے اصل دعا وہ ہے جو بندے کے دل سے نکلے

اور دعا افضل یہ ہے کہ آدمی سبحان اللہ والحمد للہ لا الہ الا اللہ اللہ اکبر وللہ الحمد ولا حول ولا قوۃ الا باللہ یہ پڑھے اور اس کے بعد جو دعا اس کے دل سے ہو اپنی زبان میں ہو وہ مانگے وہ دعااسی لئے کلمہ شریف پڑھے درود شریف پڑھے تو انشاء اللہ وہ دعائیں اور طواف جلدی قبول ہوتا ہے ۔

Leave a Comment